عمان(ایگزو نیوز ڈیسک)اردن کی مسلح افواج نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے 8 میزائلوں کو فضا ہی میں کامیابی سے تباہ کر دیا،جس کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جیسے ہی میزائلوں کے اردنی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، ملک بھر میں ممکنہ فضائی حملے کے پیش نظر خطرے کے سائرن بجا دیے گئے، جس سے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تاہم صورتحال کو بروقت قابو میں لے لیا گیا۔حکومتی ترجمان ڈاکٹر محمد حسین المومنی نے بتایا کہ اردنی فضائی دفاعی نظام نے فوری اور موثر ردعمل دیتے ہوئے تمام میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔انہوں نے کہا کہ مسلح افواج مکمل طور پر الرٹ ہیں اور مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اردنی حکام نے واضح کیا ہے کہ ملک کو درپیش کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام دفاعی اور سیکیورٹی ادارے ہمہ وقت تیار ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ اردن میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا،جس کے باعث صورتحال سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔ڈاکٹر محمد حسین المومنی نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ متعلقہ ادارے عوام کو بروقت آگاہ کرتے رہیں گے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں فوری حفاظتی اقدامات سے متعلق رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ماہرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال کی نزاکت کو بھی اجاگر کرتا ہے،جہاں معمولی پیش رفت بھی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔