Home » وزیراعظم کی درخواست مان لی گئی،جماعت اسلامی نے لانگ مارچ اکتوبر تک ملتوی کر دیا،احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

وزیراعظم کی درخواست مان لی گئی،جماعت اسلامی نے لانگ مارچ اکتوبر تک ملتوی کر دیا،احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

by ahmedportugal
26 views
A+A-
Reset

ملتان(ایگزو نیوز ڈیسک)جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی درخواست پر جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردیا ہے تاہم پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے مطالبات کے لیے احتجاجی تحریک بدستور جاری رہے گی،حکومت اگر لیوی ختم نہیں کرے گی تو ہم احتجاج ختم نہیں کریں گے،ہمارا واحد مقصد عوام کا ریلیف ہے،سارا انحصار اب وزیراعظم پر ہے کہ وہ لیوی بھتہ ٹیکس ختم یا عوامی تحریک کا سامنا کرتے ہیں،تحریک انصاف پر کریک ڈاؤن کے خلاف ہیں،ہر جماعت کو احتجاج کا جمہوری حق ملنا چاہیے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ لانگ مارچ موخر کرنا احتجاجی تحریک سے دستبرداری نہیں ہے، جماعت اسلامی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹی اور اگر حکومت نے عوام کو مطلوبہ ریلیف فراہم نہ کیا تو لانگ مارچ دوبارہ آگے بڑھایا جائے گا۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ عوام کے بنیادی مسائل کو اجاگر کرتی رہی ہے اور موجودہ احتجاج بھی کسی ذاتی یا جماعتی مفاد کے بجائے عوام کو درپیش معاشی مشکلات کے خلاف ہے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسوں کے ذریعے عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے،لیوی بھتہ ٹیکس کے پیسوں سے حکمرانوں کے جہاز اور مرسڈیز گاڑیاں آتی ہیں جبکہ حکومت کو اپنی پالیسیوں اور اخراجات کے حوالے سے جواب دینا چاہیے۔

امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ ملک کے مختلف شہروں میں دھرنے جاری ہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی کی تحریک آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم قیمتوں میں اضافے نے عام شہری کے لیے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے اور حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ریلیف پیکج جماعت اسلامی کے نزدیک عوام کے بنیادی مطالبات کا مکمل حل نہیں۔حافظ نعیم الرحمان کے مطابق جماعت اسلامی نے حکومت سے پٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ تحریری طور پر بھی کیا تاہم اسے مثبت جواب نہیں ملا،حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان متعدد ملاقاتیں اور مذاکرات ہوچکے ہیں لیکن بنیادی مطالبات پر ابھی تک فیصلہ کن پیش رفت سامنے نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کراچی سے روہڑی اور پھر روہڑی سے ملتان تک ٹرین مارچ شروع کیا تاکہ عوامی مسائل کے حوالے سے اپنی تحریک کو مزید آگے بڑھایا جاسکے۔ جماعت اسلامی پہلے ہی پٹرولیم لیوی کے خاتمے کو اپنی تحریک کا مرکزی مطالبہ قرار دے چکی ہے اور حکومت سے اس معاملے پر عملی اقدام کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام سے اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے،حکومت اگر واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے درخواست کی کہ لانگ مارچ کو ملتوی کردیا جائے،جس پر جماعت اسلامی نے اکتوبر کے پہلے ہفتے تک مارچ موخر کرنے کا فیصلہ کیا تاہم احتجاج ختم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا،کارکنوں کا جذبہ واضح ہے اور جماعت اسلامی کی تحریک کو روکا نہیں جا سکتا۔امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ حکومت حالات کے بارے میں جو بھی موقف اختیار کرے،جماعت اسلامی اپنے دھرنے جاری رکھے گی،لانگ مارچ صرف اس شرط پر موخر کیا گیا ہے کہ حکومت عوامی مطالبات پر سنجیدگی سے پیش رفت کرے اور وزیراعظم کی واپسی کے بعد معاملے پر براہِ راست بات چیت کی جائے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں موجودہ صورتحال کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے،جماعت اسلامی کا ایجنڈا فساد یا جھگڑا نہیں بلکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے،وزیراعظم جلد وطن واپس آئیں تاکہ ان کے ساتھ پٹرولیم لیوی اور عوامی ریلیف کے معاملے پر بات کی جا سکے،اگر حکومت عوام کو مطلوبہ ریلیف فراہم کرتی ہے تو جماعت اسلامی اس پیش رفت کو دیکھے گی لیکن اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو لانگ مارچ دوبارہ آگے بڑھایا جائے گا،ملتان میں جماعت اسلامی کا موجودہ پڑاو اسی احتجاجی سلسلے کا حصہ ہے اور آئندہ کا لائحہ عمل حکومت کے اقدامات کو دیکھ کر طے کیا جائے گا۔حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ ملاقات بھی ہو گی اور بات چیت بھی کی جائے گی تاہم جماعت اسلامی لانگ مارچ کے بنیادی فیصلے سے دستبردار نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت سے تحریری یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ عوامی مطالبات پر ہونے والی پیش رفت واضح اور قابلِ عمل ہو۔

جماعت اسلامی کی حالیہ تحریک کے دوران حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے متعدد دور ہوچکے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے مزید مذاکرات کی پیشکش بھی سامنے آچکی ہے۔جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے اور حافظ نعیم الرحمان مسلسل یہ موقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ عوام پر عائد اضافی بوجھ کم کیے بغیر محض محدود ریلیف سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔اس سے قبل جماعت اسلامی نے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا اور ملک کے مختلف حصوں سے قافلوں کی روانگی کا پروگرام بنایا تھا بعد ازاں احتجاجی مارچ کراچی سے ٹرین کے ذریعے روانہ ہوا اور روہڑی پہنچا،جہاں سے اسے ملتان کے راستے اسلام آباد کی جانب بڑھنا تھا۔اب حافظ نعیم الرحمان کے اعلان کے بعد لانگ مارچ کو اکتوبر کے پہلے ہفتے تک موخر کردیا گیا ہے تاہم جماعت اسلامی کی احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔جماعت اسلامی کے مطابق حکومت کی جانب سے عملی اور تحریری یقین دہانی نہ ملنے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب مارچ دوبارہ آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز