لندن(ایگزو نیوز ڈیسک)سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے بانی عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ نے عمران خان کی جیل میں موجودگی،طبی سہولیات اور اہل خانہ سے رابطے کے معاملے پر برطانوی حکومت سے کھل کر موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ معاملہ اب محض پاکستان کی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہا بلکہ انسانی حقوق کا سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق جمائما گولڈ سمتھ نے پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس ‘پر اپنے بیان میں برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم اور وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ برطانوی حکومت عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر مزید کب تک خاموش رہے گی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان طویل عرصے سے ایسی حراستی صورتحال سے گزر رہے ہیں جس میں ان کے اہل خانہ،وکلا،ڈاکٹروں اور دیگر ذرائع سے رابطے محدود کیے گئے ہیں۔ جمائما نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ طویل تنہائی اور محدود رسائی ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
جمائما نے اقوام متحدہ کے نیلسن منڈیلا رولز کا حوالہ دیتے ہوئے طویل مدت تک قید تنہائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ان کا موقف تھا کہ مسلسل 15 روز سے زائد قید تنہائی کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کے تناظر میں انتہائی سنگین سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے عمران خان کے طبی معائنے اور علاج سے متعلق حالیہ عدالتی احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ان کے لیے جامع طبی سہولیات،ذاتی معالج تک رسائی،اہل خانہ سے ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے کی ہدایات دی تھیں تاہم جمائما نے الزام عائد کیا کہ ان احکامات پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا جا رہا۔
دوسری جانب حکومت پاکستان ان الزامات کو مسترد کرچکی ہے۔ حکومتی موقف کے مطابق عمران خان کو طبی سہولیات اور اہل خانہ و دیگر مجاز افراد سے ملاقات کی اجازت حاصل ہے اور انہیں تنہائی میں رکھنے یا طبی غفلت برتنے کے الزامات درست نہیں۔حکومت نے یہ بھی بتایا ہے کہ عمران خان کے جیل میں قیام کے دوران متعدد طبی معائنے کیے جاچکے ہیں۔عمران خان کو حال ہی میں طبی معائنے کے لیے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم چند گھنٹوں بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔اس معاملے پر ان کے اہل خانہ اور وکلا نے اعتراضات اٹھائے جبکہ حکومتی حکام نے موقف اختیار کیا کہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر طبی معائنے کے لیے سرکاری ہسپتال کا انتخاب کیا گیا اور ماہر ڈاکٹروں نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا۔
جمائما نے اپنے بیان میں عمران خان کے برطانیہ سے دیرینہ تعلقات کا بھی حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی،وہاں کرکٹ ٹیم کی قیادت کی اور انگلینڈ میں کاونٹی کرکٹ بھی کھیلی۔انہوں نے پاکستان میں عمران خان کی فلاحی سرگرمیوں،خصوصاً کینسر ہسپتال اور یونیورسٹی کے قیام کا بھی ذکر کیا۔جمائما نے اپنے دونوں بیٹوں سلیمان اور قاسم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں برطانوی شہری ہیں اور طویل عرصے سے اپنے والد سے ملاقات نہیں کرسکے،دونوں کو پاکستان آمد کے لیے ویزے کے معاملے میں مشکلات کا سامنا رہا جبکہ وہ اپنے والد سے باقاعدہ ٹیلی فونک رابطے کے خواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر برطانوی حکومت سے متعدد مرتبہ رابطہ کرچکی ہیں تاہم ان کے مطابق پس پردہ سفارتی کوششیں مطلوبہ نتائج نہیں دے سکیں۔
جمائما نے برطانوی دفتر خارجہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان سے عمران خان کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کا واضح مطالبہ کرے۔جمائما نے برطانوی حکومت سے عمران خان کے لیے طبی سہولیات اور اہل خانہ سے رابطے کی بحالی،طویل تنہائی کے خاتمے اور بنیادی حقوق کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے آواز اٹھانے کی اپیل کی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دولت مشترکہ کا رکن ملک ہے اور برطانیہ کی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے ایک طویل روایت موجود ہے۔جمائما کی اپیل ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمران خان کی طبی صورتحال اور جیل میں ان کے علاج سے متعلق معاملہ ملکی سیاست کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی زیر بحث ہے۔حالیہ دنوں میں سابق بین الاقوامی کرکٹرز اور دیگر حلقوں کی جانب سے بھی عمران خان کے طبی علاج اور انسانی سلوک سے متعلق مطالبات سامنے آئے ہیں۔جمائما نے اپنے پیغام کے اختتام پر برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم اور وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا کہ وہ عمران خان کے معاملے پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے واضح طور پر اپنا موقف سامنے لائیں اور ان کے بنیادی حقوق کے احترام کے لیے آواز بلند کریں۔