Home » امن معاہدہ سبوتاژکرنے کی کوشش؟امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا اسرائیلی عناصر پر تہلکہ خیز الزام،خوفناک سازش بے نقاب کر دی

امن معاہدہ سبوتاژکرنے کی کوشش؟امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا اسرائیلی عناصر پر تہلکہ خیز الزام،خوفناک سازش بے نقاب کر دی

by ahmedportugal
12 views
A+A-
Reset

نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے بعض عناصر امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کو سبوتاژکرنے کے لیے سرگرم رہے اور اس مقصد کے تحت ایک منظم،خفیہ اور مالی وسائل سے بھرپور مہم چلائی گئی، اس مبینہ مہم کا مقصد نہ صرف سفارتی کوششوں کو ناکام بنانا تھا بلکہ جنگی صورتحال کو طول دینا بھی اس کے اہم اہداف میں شامل تھا۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایک معروف پوڈکاسٹر جوئے روگن کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کے بعض عناصر امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے اور جنگی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سرگرم رہے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان عناصر کی جانب سے ایک منظم اور مالی وسائل سے بھرپور مہم چلائی گئی،جس کا مقصد نہ صرف معاہدے کو ناکام بنانا تھا بلکہ انہیں ذاتی طور پر بھی نشانہ بنایا گیا۔جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کے کچھ حلقے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے سخت مخالف تھے اور اس حوالے سے رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے بھرپور وسائل استعمال کیے گئے۔انہوں نے حال ہی میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بھی انکشاف کیا گیا کہ جنگ بندی کے خلاف مہم چلانے کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈنگ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ایک عالمی اشتہاری ایجنسی،جسے اسرائیلی حکومت کی مالی معاونت حاصل تھی،نے امریکا میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت اور جنگ جاری رکھنے کے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔اس مقصد کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مینیجر اور ڈیجیٹل اسٹریٹجسٹ بریڈ پارسکیل اور ان کی کمپنی ’کلاک ٹاور ایکس‘ کی خدمات حاصل کی گئیں جبکہ قدامت پسند اور ٹرمپ کے حامی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو بھی اس مہم کا حصہ بنایا گیا۔جے ڈی وینس کے مطابق یہ ایک منظم اور خفیہ مہم تھی،جس میں نہ صرف پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی بلکہ انہیں بھی سوشل میڈیا پر تنقید، میڈیا لیکس اور مختلف الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ ان پر قطر اور دیگر غیر ملکی حکومتوں کے زیر اثر ہونے کے الزامات بھی لگائے گئے تاہم ان کا موقف تھا کہ ان کی تمام کوششیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پالیسی اہداف کے مطابق تھیں۔انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی سیاست میں مختلف ممالک کی جانب سے اثرورسوخ ڈالنے کی کوششیں غیر معمولی نہیں تاہم تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہ اثرات امریکی مفادات کے برعکس پالیسی فیصلوں کو متاثر کرنے لگیں۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل قریبی اتحادی ضرور ہیں لیکن دیگر اتحادیوں کی طرح بعض معاملات پر اختلافات بھی ہو سکتے ہیں اور اسرائیل مخالف بیانات کو یہود دشمنی قرار دینا درست نہیں۔انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اقدامات اسرائیلی دباو کے تحت کیے اور کہا کہ ایران کے حوالے سے پالیسی فیصلے صدر ٹرمپ کے اپنے تھے،جن میں وہ بھی شریک رہے۔ان کے مطابق صدر ٹرمپ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں اور وہ اس موقف سے اتفاق کرتے ہیں۔جے ڈی وینس نے امریکا کی جانب سے ایران کو مبینہ طور پر 300 ارب ڈالر فراہم کیے جانے کی رپورٹس کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا براہِ راست کوئی مالی امداد فراہم نہیں کر رہا تاہم پابندیوں میں نرمی کے باعث خلیجی ممالک ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔

انٹرویو کے دوران جیفری ایپسٹین سے متعلق سرکاری دستاویزات کے اجرا میں تاخیر پر بھی سوالات اٹھائے گئے،جس پر نائب صدر نے حکومتی حکمت عملی کو تسلیم کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا تاہم انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد کسی حقیقت کو چھپانا نہیں تھا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایپسٹین کے امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس حلقوں سے روابط کے الزامات موجود ہیں لیکن حکومت کے پاس ان روابط کی باضابطہ تصدیق کے لیے کوئی ٹھوس دستاویز موجود نہیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز