Home » غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی کا معاملہ،جوڈیشل ایکٹوازم پینل کا سپریم کورٹ جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی کا معاملہ،جوڈیشل ایکٹوازم پینل کا سپریم کورٹ جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

by ahmedportugal
13 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور میں غیر ملکی خواتین کے اغوا اور مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے پر جوڈیشل ایکٹوازم پینل (JAP) نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ایک آزاد اور بااختیار جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔پینل نے واقعے کو پاکستان کی عالمی ساکھ،قانون کی حکمرانی اور انصاف کے نظام کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کی مکمل،شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے اپنے بیان میں حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف مقدمہ درج کرنا کافی نہیں بلکہ حقائق تک پہنچنے، ذمہ دار عناصر کا تعین کرنے اور متاثرہ خواتین کو انصاف فراہم کرنے کے لیے آزاد عدالتی تحقیقات ضروری ہیں،کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ تمام پہلووں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔جوڈیشل ایکٹوازم پینلنے کہا کہ لاہور میں پیش آنے والا واقعہ نہ صرف انسانی حقوق بلکہ آئین پاکستان میں فراہم کردہ بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا معاملہ ہے۔پینل نے آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 10-اے، 14 اور 25 کے تحت شہریوں کے حقوق،شخصی آزادی،منصفانہ ٹرائل،انسانی وقار اور مساوات کے اصولوں کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے الزام عائد کیا کہ واقعے میں مبینہ طور پر بااثر شخصیات کے کردار اور ممکنہ اثر و رسوخ کے پہلووں کی بھی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ کسی بھی طاقتور فرد یا گروہ کو قانون سے بالاتر ہونے کا موقع نہ مل سکے۔پینل نے کہا کہ انصاف کے عمل میں کسی بھی قسم کی مداخلت یا دباو ریاستی ذمہ داریوں سے انحراف کے مترادف ہے۔بیان میں آدھی رات کے وقت جوڈیشل مجسٹریٹ کی سرکاری رہائش گاہ پر چھاپے کے مبینہ واقعے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ عدالتی آزادی آئین کی بنیادی روح ہے اور اس پر کسی بھی قسم کا دباو یا حملہ نا قابل قبول ہے۔پینل نے پولیس اور دیگر ریاستی اداروں کی کارکردگی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کا دائرہ صرف واقعے کے براہ راست ملزمان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمام متعلقہ کرداروں،ممکنہ سہولت کاروں اور ادارہ جاتی کمزوریوں کو بھی سامنے لایا جانا چاہیے۔

جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے کہا کہ متاثرہ غیر ملکی خواتین کو فوری،مکمل اور شفاف انصاف کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ایسے واقعات نہ صرف انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش پیدا کرتے ہیں بلکہ پاکستان کے عالمی تشخص اور انصاف کے نظام پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے مطابق سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہونے والی آزاد تحقیقات ہی حقائق کو سامنے لا سکتی ہیں اور عوامی اعتماد کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔پینل نے زور دیا کہ آئین کی بالادستی،قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے خواتین،غیر ملکی شہریوں اور عدالتی اداروں کے تحفظ کے حوالے سے موثر اصلاحات بھی متعارف کرائی جائیں کیونکہ شفاف انصاف ہی ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز