اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیشکش قبول کرتے ہوئے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کے فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق حافظ نعیم الرحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بورڈ آف پیس میں شامل مجرم اور عالمی سطح کے کرپٹ کردار، جیسے عراق پر تباہ کن حملے کرنے والے ٹونی بلیئر، اس منصوبے کو فلسطینی عوام کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کا جدید ذریعہ بناتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعمیر نو کے نام پر غزہ میں امریکی قبضہ ناقابل قبول ہے اور پاکستان کی شمولیت کو کوئی جواز نہیں بنتا۔انہوں نے پاکستان کی وزارت خارجہ کے موقف کی بھی تردید کی، جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت غزہ امن منصوبے کی حمایت کی ہے۔ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے مطابق یہ بورڈ ایک دن اقوام متحدہ کی جگہ لے سکتا ہے، جس کے بعد پاکستان کے شمولیت کے فیصلے کی کوئی منطقی بنیاد باقی نہیں رہتی۔امیر جماعت اسلامی نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کی فوج کسی بھی صورت میں غزہ نہیں جائے گی اور حکومت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو ملکی خودمختاری اور عوامی مفاد کے خلاف ہوں۔ ان کا موقف تھا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اصولوں اور قومی مفاد کے منافی ہے۔
غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت،جماعت اسلامی نے حکومتی فیصلے کو عالمی نو آبادیاتی منصوبہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا
5