Home » پی ٹی آئی کو بڑا سیاسی سہارا،جماعت اسلامی نے اے پی سی کی دعوت قبول کرلی،گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت کا اعلان

پی ٹی آئی کو بڑا سیاسی سہارا،جماعت اسلامی نے اے پی سی کی دعوت قبول کرلی،گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت کا اعلان

by ahmedportugal
9 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن رہنماوں کی جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن سے اہم ملاقات کے بعد سیاسی منظرنامے میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے،جہاں جماعت اسلامی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کرلی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کا بھی واضح اعلان کیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ملاقات میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان،سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس،سابق سپیکر اسد قیصر،سینیئر سیاست دان مصطفیٰ نواز کھوکھر اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماوں نے شرکت کی جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے حافظ نعیم الرحمٰن،لیاقت بلوچ اور نصراللہ رندھاوا موجود تھے۔ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال،امن و امان،معاشی مسائل، آئینی معاملات اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی،جسے قبول کرلیا گیا ہے،موجودہ حالات میں ملک کو ایسے قومی ایجنڈے کی ضرورت ہے جس پر سیاسی جماعتوں کے درمیان امن و امان،معاشی صورتحال اور جمہوری عمل کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا کیا جاسکے۔

امیر جماعت اسلامی نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی بھی مخالفت کی۔انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی جس سے آئین معطل یا اس کی عمل داری متاثر ہو۔یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا کی حکومت کے درمیان سکیورٹی صورتحال اور تحریک انصاف کے اعلان کردہ اسلام آباد مارچ کے باعث سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔حافظ نعیم الرحمٰن نے سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر بھی زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بات چیت بامعنی ہونی چاہیے اور سیاسی عمل کی بحالی کے لیے ہونے والی کوششوں میں جماعت اسلامی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے عمران خان سے پارٹی رہنماوں کی ملاقات نہ ہونے اور ان کی صحت سے متعلق تحفظات دور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

جماعت اسلامی کے امیر نے مزید کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال کو محض ایک جماعت یا ادارے کا مسئلہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ملک میں سیاسی استحکام،امن اور معاشی بہتری کے لیے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے،ملک میں کشیدگی اور تصادم کے بجائے سیاسی رابطے اور مشاورت کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔اس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کا بنیادی مقصد مختلف سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے ملک کو درپیش بحرانوں پر مشاورت کرنا اور ان کے ممکنہ حل تلاش کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سیاسی اور سماجی تقسیم کم کرنے کے لیے مختلف فریقوں کے درمیان رابطہ اور بات چیت ضروری ہے۔راجہ ناصر عباس کے مطابق ملک کو درپیش سیاسی،معاشی اور امن و امان کے مسائل کسی ایک جماعت تک محدود نہیں،اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو مشاورت کے عمل میں شامل ہونا چاہیے،جماعت اسلامی کی اے پی سی میں شرکت سے مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے کے امکانات مزید بڑھیں گے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی ملاقات کے بعد سیاسی رابطوں کو جاری رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے جماعت اسلامی کی قیادت سے رابطہ کیا گیا ہے تاکہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے مختلف سیاسی قوتوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جاسکے۔انہوں نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بھی کہا کہ اپوزیشن بات چیت کے لیے تیار ہے اور مذاکرات کے نتیجے کا انحصار فریقین کے طرز عمل پر ہوگا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں اور پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔مارچ کی تاریخ 27 ستمبر سے تبدیل کرکے 4 اکتوبر کی گئی تھی جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور احتجاج کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔حالیہ دنوں میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کا معاملہ بھی سیاسی بحث کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔وفاقی حکومت کے بعض نمائندوں کی جانب سے آئینی و قانونی آپشنز پر غور کا ذکر کیا گیا جبکہ تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں نے ایسے کسی اقدام کی مخالفت کی ہے۔جماعت اسلامی کی جانب سے اے پی سی میں شرکت کا فیصلہ اس سیاسی رابطہ کاری کے دائرے کو مزید وسیع کرتا ہے تاہم کانفرنس میں شرکت کے بعد مختلف جماعتیں کن نکات پر مشترکہ موقف اختیار کرتی ہیں اور خیبرپختونخوا،مذاکرات،احتجاج اور دیگر سیاسی معاملات پر کوئی متفقہ لائحہ عمل سامنے آتا ہے یا نہیں،اس کا فیصلہ آئندہ مشاورتی عمل میں ہو گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز