اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے واضح طور پر کہا ہے کہ جیل میں ہونے والی ملاقاتوں کا مقصد ”قومی اداروں کے خلاف سازشیں“ ہرگز نہیں بلکہ صرف اور صرف ”قانونی مشاورت“ ہوتا ہے، جیل کی ملاقات کو ریاستی اداروں کو بدنام کرنے، شہدا کی تضحیک کرنے یا غیرقانونی مطالبات منوانے کا پلیٹ فارم نہیں بنایا جا سکتا اور جو بھی ایسے ”غیرقانونی مطالبے“ کرے گا، انہیں کسی قیمت پر پورا نہیں کیا جائے گا۔
ٰٓایگزو نیوز کے مطابق قومی اسمبلی میں دھواں دار خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں سیاسی مخالفین کو بے رحمی سے انتقام کا نشانہ بنایا گیا، بانی پی ٹی آئی خود بیرونِ ملک دوروں میں کھلے عام یہ دعوے کرتے رہے کہ وہ مخالفین کے جیلوں میں اے سی اتار دیں گے، سیاسی انتقام اور اداروں کے خلاف پراپیگنڈا اسی دور کی پیداوار ہے، جس نے سیاسی ماحول کو زہر آلود کیا۔وفاقی وزیر اطلاعات عطاءتارڑ نے مزید کہا کہ شہباز شریف کی قیادت میں موجودہ حکومت نے سیاسی بلوغت کا ثبوت دیا ہے اور ماضی کی تلخیوں کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے ملک و قوم کے بہتر مستقبل کے لیے ”میثاقِ جمہوریت“ کیا، جس نے پاکستان میں سیاسی عمل کو نئی زندگی دی، پی ٹی آئی کے دور میں شہزاد اکبر جیسے کردار سامنے لائے گئے جنہوں نے سیاست کو نفرت، انتقام اور الزام تراشی کی دلدل میں دھکیل دیا۔عطا تارڑ نے سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف جاری ”مذموم مہم“ کی بھی سخت مذمت کی اور کہا کہ ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی ہر کوشش دراصل پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ملکی اداروں کی تضحیک، پروپیگنڈا مہمات اور جھوٹے بیانیے قومی مفاد کے خلاف ہیں اور حکومت ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھے گی۔
جیل ملاقاتیں سازشوں کیلئے نہیں،قانونی مشاورت کیلئے ہوتی ہیں،اداروں کی توہین کسی صورت منظور نہیں،عطا تارڑ کا تحریک انصاف کو کرارا جواب
5