اٹلی نے لیبر کی قلت پر قابو پانے اور قانونی امیگریشن کو فروغ دینے کے لیے 2026 سے 2028 کے دوران غیر یورپی ممالک کے شہریوں کو پانچ لاکھ ورک ویزے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد مقامی معیشت کی ضروریات پوری کرنا اور مہاجرین کے لیے قانونی راستے فراہم کرنا ہے۔
حکومتی اعلان کے مطابق صرف 2026 میں 1 لاکھ 64 ہزار 850 افراد کو کام کی اجازت دی جائے گی، جب کہ مجموعی طور پر تین سال میں چار لاکھ 97 ہزار 550 ویزے دیے جائیں گے۔
یہ وزیراعظم جیورجیا میلونی کی قیادت میں بننے والی دائیں بازو کی حکومت کا دوسرا بڑا امیگریشن منصوبہ ہے۔ اس سے قبل 2023 سے 2025 تک ساڑھے چار لاکھ سے زائد ورک ویزے دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
ایک جانب اٹلی قانونی امیگریشن کے مواقع فراہم کر رہا ہے، تو دوسری جانب غیر قانونی ہجرت کے خلاف سخت پالیسیوں پر بھی عمل پیرا ہے۔ اس میں بحیرہ روم کے راستے آنے والے مہاجرین کو روکنے، فلاحی تنظیموں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور غیر قانونی تارکین کو واپس بھیجنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
ملک کو زراعت، صنعت اور دیگر اہم شعبوں میں مزدوروں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
سن 2024 میں پیدائش کی نسبت اموات کی تعداد دو لاکھ 81 ہزار زیادہ رہی، جس سے آبادی میں 37 ہزار کی کمی ہوئی اور کل آبادی پانچ کروڑ 89 لاکھ 30 ہزار پر آ گئی۔
حکام کے مطابق 2050 تک اس کمی کو روکنے کے لیے کم از کم ایک کروڑ مہاجرین کی ضرورت ہو گی۔
زراعت سے منسلک تنظیم Coldiretti نے حکومتی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے کھیتوں میں لیبر دستیاب ہو گی اور غذائی پیداوار کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے گا۔ اٹلی کے وزیر داخلہ ماتیو پیانتیدوسی نے کہا کہ ہم قانونی امیگریشن کے دروازے کھولنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ ہماری معیشت کو درکار افرادی قوت دستیاب ہو۔