روم(ایگزو نیوز ڈیسک)غیر قانونی امیگریشن کے معاملے پر یورپ میں بڑھتے اختلافات کے درمیان اٹلی نے سپین کے خلاف بڑا سفارتی و انتظامی قدم اٹھاتے ہوئے شینگن معاہدے کے تحت بعض سفری سہولتیں معطل کر دی ہیں۔ اٹلی یورپی یونین کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے سپین کے حوالے سے شینگن نظام پر پابندی عائد کی ہے۔
اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اعلان کیا ہے کہ شمالی افریقہ سے ملحقہ سپین کے علاقے سیوٹا میں غیر قانونی تارکین وطن کی بڑھتی آمد کے بعد سپین کے ساتھ شینگن معاہدے کے تحت مخصوص سہولتوں کو ایک ماہ کے لیے معطل کیا گیا ہے۔جارجیا میلونی نے اس اقدام کو ”غیر معمولی فیصلہ“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد اٹلی کی قومی سلامتی کا تحفظ اور ملک کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں پر موثر کنٹرول کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔اٹلی کی وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ سپین سے آنے والے غیر سپینی شہریوں کے لیے سمندری اور فضائی راستوں سے بغیر ویزا داخلے کی سہولت محدود کر دی گئی ہے تاہم اس فیصلے کا اطلاق اطالوی اور دیگر یورپی یونین کے شہریوں کے سفر پر نہیں ہوگا۔
اطالوی حکام کے مطابق فرانس کے ساتھ مشاورت کے بعد دونوں ممالک نے زمینی سرحدی نگرانی کے موجودہ نظام کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے تاکہ غیر قانونی نقل مکانی کو روکا جا سکے۔رپورٹس کے مطابق یورپی یونین کے متعدد ممالک گزشتہ عرصے سے سپین کی امیگریشن پالیسی اور غیر قانونی تارکین وطن کی روک تھام کے اقدامات پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔بعض حلقوں کی جانب سے سپین کو شینگن نظام سے نکالنے کی تجاویز بھی سامنے آئی تھیں تاہم اٹلی نے اس معاملے میں عملی قدم اٹھاتے ہوئے سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔اٹلی کی حکومت پہلے ہی بحیرہ روم کے راستے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آنے والے ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد روکنے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے۔وزیراعظم میلونی کا کہنا ہے کہ اٹلی یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کی حمایت کرے گا۔یورپی سطح پر یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غیر قانونی امیگریشن، سرحدی سیکیورٹی اور شینگن نظام کے مستقبل پر رکن ممالک کے درمیان بحث میں تیزی آ گئی ہے۔