اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سعودی عرب کے شہر طائف میں واقع شاہ فہد ایئربیس پر ہونے والے حملے میں اطالوی فضائیہ کا ایف 2000 جنگی طیارہ بھی نشانہ بن گیا تاہم حملے میں کسی اطالوی فوجی اہلکار کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔اٹلی کے وزیر دفاع گائیڈو کروسیٹو نے تصدیق کی ہے کہ طائف ایئربیس پر موجود اطالوی طیارے کو حملے کے دوران نقصان پہنچا جبکہ اٹلی سے متعلق دیگر گاڑیوں یا تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
اطالوی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر دفاع گائیڈو کروسیٹو نے جمعے کے روز بتایا کہ وہ سعودی عرب میں بالخصوص طائف ایئربیس کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں،جہاں اطالوی اہلکار ایک بین الاقوامی فوجی آپریشن کے تحت تعینات ہیں،ایئربیس پر متعدد حملے کیے گئے اور ان میں ایک اطالوی ایف 2000 طیارہ بھی زد میں آیا جو اڈے کے نسبتاً غیر مرکزی حصے میں موجود تھا۔گائیڈو کروسیٹو نے واضح کیا کہ طائف ایئربیس پر موجود کسی اطالوی فوجی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا اور اطالوی اہلکار مکمل طور پر محفوظ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حملے میں اطالوی عملے کے زیر استعمال کسی دوسری گاڑی یا بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان نہیں پہنچا۔اطالوی وزیر دفاع کے مطابق طیارہ ایئربیس کے اندر ایک غیر مرکزی علاقے میں موجود تھا جب اسے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے دفاعی حکام کو واقعے کے بعد صورتحال،اٹلی کے فوجی اہلکاروں کی سلامتی اور آئندہ ممکنہ اقدامات کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی۔طائف میں واقع شاہ فہد ایئربیس سعودی عرب کے اہم فضائی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور وہاں اطالوی فوجی اہلکار بھی تعینات ہیں۔ اطالوی اہلکار امریکہ کی قیادت میں داعش کے خلاف جاری بین الاقوامی فوجی مشن کا حصہ ہیں۔اٹلی نے حالیہ صورتحال کے پیش نظر اپنے اہلکاروں کی حفاظت کے لیے پہلے سے حفاظتی اقدامات بھی نافذ کر رکھے ہیں۔ایف 2000 اطالوی فضائیہ میں استعمال ہونے والا یورو فائٹر طیارہ ہے،جو فضائی دفاع، نگرانی اور مختلف نوعیت کے فوجی آپریشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔طیارے کے نشانہ بننے کی خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور یمن میں حوثی جنگجووں کے درمیان حملوں کا سلسلہ شدت اختیار کرچکا ہے۔
اطالوی وزیر دفاع نے اپنے بیان میں طائف ایئربیس پر حملے کا براہ راست ذمہ دار کسی فریق کو قرار نہیں دیا تاہم حالیہ دنوں میں یمن کے حوثی جنگجو سعودی عرب کے خلاف ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں جبکہ سعودی عرب اور دیگر ذرائع کی جانب سے بھی ان حملوں کو حوثیوں سے منسوب کیا گیا ہے۔اس لیے اطالوی طیارے کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے میں ذمہ داری کا حتمی تعین متعلقہ تحقیقات اور سرکاری تصدیق سے ہی ممکن ہو گا۔طائف میں حملے کے بعد اٹلی نے بحیرہ احمر اور باب المندب میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے تناظر میں اپنے تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے بحری اقدامات پر بھی توجہ مرکوز کردی ہے۔اطالوی وزیر دفاع گائیڈو کروسیٹو نے اس سے قبل کہا تھا کہ انہوں نے چیف آف ڈیفنس سٹاف کے ساتھ مل کر بحریہ کو متحرک رکھنے اور اطالوی تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کی تیاری پر اتفاق کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اٹلی بحیرہ احمر میں اپنی تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے بحری موجودگی بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔اطالوی حکومت کے مطابق باب المندب کی صورتحال میں بگاڑ عالمی تجارت اور اٹلی کے اقتصادی مفادات پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے،کیونکہ یہ آبی گزرگاہ ایشیا اور یورپ کے درمیان بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔گائیڈو کروسیٹو نے کہا ہے کہ اطالوی بحریہ قومی مفادات اور سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے گی اور ضرورت پڑنے پر فیصلہ کن اقدامات کے لیے تیار رہے گی۔اٹلی کی جانب سے بحیرہ احمر میں مزید بحری وسائل کی تیاری خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سامنے آئی ہے۔حالیہ عرصے میں یمن کے حوثی جنگجووں کی جانب سے بحیرہ احمر اور سعودی عرب سے متعلق حملوں میں اضافے کے باعث عالمی سطح پر بھی تشویش بڑھی ہے۔سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں کے ساتھ ساتھ باب المندب اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق حالیہ لڑائی میں حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر سے متصل علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے،جس سے اہم بحری راستوں کی سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔طائف ایئربیس پر اطالوی جنگی طیارے کے نشانہ بننے کے واقعے کے بعد اٹلی کی وزارت دفاع نے اپنے فوجی اہلکاروں کی سلامتی اور خطے کی مجموعی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینے کا عمل تیز کردیا ہے۔اطالوی وزیر دفاع کے مطابق متعلقہ عسکری حکام پہلے ہی اہلکاروں کے تحفظ کے لیے حفاظتی انتظامات نافذ کرچکے ہیں اور موجودہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے۔واقعے نے سعودی عرب میں موجود غیر ملکی فوجی اہلکاروں اور تنصیبات کو درپیش خطرات کو بھی نمایاں کردیا ہے تاہم اطالوی حکومت کی جانب سے فی الحال اپنے اہلکاروں کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔طائف ایئربیس پر حملے اور اطالوی جنگی طیارے کو پہنچنے والے نقصان کی مزید تفصیلات متعلقہ حکام کی آئندہ جائزہ رپورٹس کے بعد سامنے آنے کا امکان ہے۔