تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران میں جاری کشیدگی نے ایک نیا سنگین مرحلہ اختیار کر لیا ہے، جہاں اسرائیلی فضائی حملوں کی شدت میں اضافہ ہوا اور تہران میں ایک قدیم یہودی عبادت گاہ مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ اس واقعے نے نہ صرف مذہبی برادری میں گہرا صدمہ پیدا کیا بلکہ خطے میں جنگ کی لپیٹ کو بھی مزید وسیع کر دیا ہے۔ حملوں کے دوران عبادت گاہ کے ملبے سے مقدس متون اور تورات کے نسخے برآمد کیے گئے، جبکہ ایران نے جوابی کارروائیوں کے ذریعے امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے مزید خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں جنگ کے 39ویں روز بھی اسرائیلی فضائی حملے جاری رہے اور تہران سمیت مختلف علاقوں میں شہری اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ان حملوں کے نتیجے میں تہران میں واقع ایک قدیم یہودی عبادت گاہ مکمل طور پر تباہ ہو گئی،جس کے ملبے سے عبرانی زبان میں مذہبی متون اور مقدس کتب برآمد ہوئیں جبکہ امدادی ٹیموں نے تورات کے نسخے بھی نکالے۔ایرانی پارلیمنٹ میں یہودی برادری کے نمائندے ہمایوں سامع نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صہیونی حکومت نے مذہبی تہواروں کے دوران بھی عبادت گاہ کو نشانہ بنایا، جس سے نہ صرف عمارت تباہ ہوئی بلکہ مقدس صحیفے بھی ملبے تلے دب گئے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس کا اصل ہدف ایک سینئر فوجی کمانڈر تھا اور عبادت گاہ کو پہنچنے والا نقصان غیر ارادی تھا۔رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملے صرف عبادت گاہ تک محدود نہیں رہے بلکہ ایران کے مختلف شہروں میں پلوں،ریلوے تنصیبات اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی فوجی نقل و حمل اور لاجسٹک نظام کو کمزور کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جزیرہ خارگ پر ہونے والے حملوں میں اہم تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا،جہاں سے ملک کی بڑی مقدار میں تیل برآمد کیا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ایران کی پیٹروکیمیکل برآمدات کو بڑا دھچکا لگا ہے،جس سے ملکی معیشت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری طرف ایران نے بھی جوابی کارروائیوں میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔اطلاعات کے مطابق کویت میں ایک امریکی فوجی اڈے پر حملے میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے جبکہ دیگر مقامات پر بھی کشیدگی برقرار ہے۔پاسداران انقلاب نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر سرخ لکیر عبور کی گئی تو ردعمل خطے تک محدود نہیں رہے گا۔اس دوران سعودی حکام نے بھی اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو فعال رکھتے ہوئے متعدد بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھنے کا اعلان کیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔مسلسل حملوں اور جوابی کارروائیوں نے صورتحال کو انتہائی نازک بنا دیا ہے،جہاں کسی بھی بڑے تصادم کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے اور سفارتی حل کی گنجائش کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔