یروشلم(ایگزو نیوز ڈیسک)اسرائیل میں حالیہ عوامی رائے نے ایک اہم موڑ اختیار کر لیا ہے جہاں اکثریت ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی حکمت عملی کو برقرار رکھنے کے حق میں سامنے آئی ہے۔تازہ سروے کے مطابق شہریوں کی بڑی تعداد موجودہ حالات میں جنگ کے خاتمے کو قبل از وقت قرار دے رہی ہے اور اسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے، جس کے باعث خطے میں تناو مزید بڑھنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسرائیل میں کیے گئے ایک تازہ سروے نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور عوامی سوچ کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے لاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کی اکثریت ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے حق میں نہیں ہے۔اسرائیلی تھنک ٹینک کی جانب سے جاری اس جائزے کے مطابق 59 فیصد شہریوں کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں جنگ ختم کرنا قومی سلامتی کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ یہ رجحان خاص طور پر یہودی آبادی میں زیادہ مضبوط ہے،جہاں دو تہائی سے زائد افراد نے فوری جنگ بندی کو غیر موثر اور خطرناک قرار دیا۔ان کے نزدیک ایران کے خلاف جاری دباو اور فوجی حکمت عملی کو برقرار رکھنا ہی اسرائیل کے دفاعی مفادات کے لیے ضروری ہے۔اس کے برعکس عرب شہریوں میں اس معاملے پر رائے واضح طور پر منقسم دکھائی دی،جہاں تقریباً نصف افراد نے جنگ کے خاتمے کو کسی حد تک بہتر قرار دیا تاہم مکمل اتفاق رائے سامنے نہیں آ سکا۔یہ اختلاف اسرائیلی معاشرے کے اندر پائے جانے والے مختلف نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ 62 فیصد اسرائیلیوں کو مستقبل قریب میں ایران کے ساتھ بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کا خدشہ ہے، جو خطے میں عدم استحکام کے بڑھتے ہوئے امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ دفاعی پالیسیوں پر امریکا کا اثر و رسوخ بڑھ چکا ہے، جہاں 51 فیصد افراد نے امریکی اثر کو اپنی حکومت سے زیادہ موثر قرار دیا۔سروے کے مطابق اسرائیلی عوام کی ایک بڑی تعداد امریکا میں اپنے ملک کے حوالے سے بڑھتے ہوئے منفی رجحانات پر بھی تشویش کا اظہار کر رہی ہے، جو سفارتی سطح پر ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے۔ مزید برآں لبنان کے حوالے سے بھی مایوسی پائی جاتی ہے، جہاں اکثریت کا خیال ہے کہ کسی پائیدار معاہدے یا حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں کامیاب ہونے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔واضح رہے کہ یہ سروے نہ صرف اسرائیل کے اندرونی سیکیورٹی خدشات کو نمایاں کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے امکانات فی الحال محدود دکھائی دیتے ہیں، جبکہ مستقبل میں مزید بڑے تصادم کے خدشات بدستور موجود ہیں۔