یروشلم(ایگزو نیوز ڈیسک)اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر نے غزہ میں عسکری کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج پیشگی اقدامات کے تحت اپنے آپریشنز کو جاری رکھے گی۔ان کے مطابق اسرائیلی افواج نے حماس کو نمایاں حد تک کمزور کیا ہے اور خطے کی سکیورٹی صورتحال میں تبدیلی لائی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسرائیلی آرمی چیفایال ضمیر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں خطرات کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھے گی اور اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ حماس کے عسکری ونگ کی خصوصی فورس ”نخبا“ کے اہلکاروں سمیت 7 اکتوبر کے حملے کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں ملوث افراد کا مسلسل تعاقب کیا جا رہا ہے۔اس بیان کا وقت ایسے موقع پر آیا ہے جب حالیہ دنوں میں”بورڈ آف پیس“ کے غزہ نمائندے نکولائے ملادینوف نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی تھی۔اس ملاقات میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کے انتظامی امور کو ایک شہری حکومت کے حوالے کرنے کے ممکنہ منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق مذکورہ نمائندے نے مذاکراتی پیش رفت کے دوران اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ غزہ پر جاری حملے روک دے تاکہ کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران غزہ سے متعلق جاری مذاکرات میں حماس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ خلیل الحیہ سے ٹیلیفونک گفتگو میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران فلسطینی قیادت کی جانب سے کیے جانے والے ہر فیصلے اور اقدام کی حمایت جاری رکھے گا۔اس پیش رفت نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے،جہاں ایک طرف عسکری کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات سامنے آ رہے ہیں تو دوسری جانب سفارتی سطح پر جنگ بندی اور سیاسی حل کی کوششیں بھی جاری ہیں۔