اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حدوں کو چھونے لگی ہے،جہاں اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور ممکنہ فوجی کارروائی کے اشاروں نے خطے میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں امریکا کے ممکنہ اشارے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ہے کہ جیسے ہی امریکا کی جانب سے گرین سگنل ملا،اسرائیل ایران کے خلاف بھرپور اور پہلے سے مختلف نوعیت کی کارروائی کرے گا،جس میں حساس اور سٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ حملہ اس قدر شدید ہوگا کہ ایران کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔اسرائیلی قیادت نے امریکا کے ساتھ اپنی سٹریٹجک ہم آہنگی کا بھی اعادہ کیا،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کسی بھی بڑی کارروائی سے قبل بین الاقوامی سطح پر مشاورت جاری ہے۔
مبصرین کے مطابق ایسے بیانات نہ صرف سفارتی دباو بڑھانے کا ذریعہ ہوتے ہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی متاثر کرتے ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل تہران میں ہونے والے ایک بڑے حملے کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اگرچہ ان دعووں کی آزادانہ تصدیق مختلف ذرائع سے نہیں ہو سکی تاہم دونوں ممالک کے درمیان بیانات کی شدت اس بات کی غمازی کر رہی ہے کہ صورتحال بدستور نازک اور غیر یقینی ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف ایران اور اسرائیل بلکہ پورے خطے اور عالمی توانائی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔