Home » اسرائیل کے لبنان پر ڈرونز اور میزائل حملوں کا سلسلہ جاری،حزب اللہ اور حماس ہدف بن گئے،اقوام متحدہ نے اسرائیلی حملوں کو ”جنگی جرم“ قرار دے دیا

اسرائیل کے لبنان پر ڈرونز اور میزائل حملوں کا سلسلہ جاری،حزب اللہ اور حماس ہدف بن گئے،اقوام متحدہ نے اسرائیلی حملوں کو ”جنگی جرم“ قرار دے دیا

by ahmedportugal
0 views
A+A-
Reset

بیروت(ایگزو نیوز ڈیسک)اسرائیل نے لبنان میں اپنی فضائی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جہاں ڈرونز اور میزائل حملوں کے ذریعے مشرقی اور جنوبی دیہات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد حزب اللہ اور حماس کے مبینہ فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ہے۔ لبنان میں شہری خوف اور خوفزدگی کا شکار ہیں، جبکہ اقوام متحدہ نے ان حملوں کو واضح طور پر “جنگی جرم” قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسرائیلی فوج نے لبنان میں حزب اللہ اور حماس کے مبینہ ”نشانے“ پر حملے شروع کر دیے ہیں، جس سے پہلے مشرقی اور جنوبی لبنان کے چار دیہات میں اسرائیل نے مقامی باشندوں کو خالی کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ بیقا وادی کے مشرقی دیہات حمرا اور عین التینہ اور جنوبی لبنان کے کفر حتّا اور عنّان میں حزب اللہ اور حماس کی ”فوجی تنصیبات“ پر فضائی حملے کیے جائیں گے۔ اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے کفر حتّا میں دیکھا کہ اسرائیلی انتباہ کے بعد درجنوں خاندان دیہات چھوڑ کر جا رہے تھے، جبکہ علاقے میں ڈرون کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ ایمبولینس اور فائر ٹرک ہنگامی طور پر موجود تھے۔لبنان کے وزارت صحت نے بتایا کہ جنوبی دیہات بریکہ میں ایک کار پر ڈرون حملے میں دو افراد زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ یہ حملہ دو حزب اللہ کے ارکان کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔یہ تازہ حملے اتوار کو جنوبی لبنان کے بِن جبئیل کے شمال میں عین المزرب علاقے میں اسرائیلی حملے کے بعد آئے، جس میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا اور دو افراد ہلاک ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس حملے میں بھی ایک حزب اللہ کا رکن ہلاک ہوا، جو سرحد سے تقریباً 10 کلومیٹر دور ہوا۔اسرائیل نے 2024 میں امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جس نے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک سال سے زائد شدید لڑائی کو ختم کیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے متعدد بار اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بمباری کی ہے اور لبنان کے پانچ علاقوں پر قبضہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ لبنان کی فوج متوقع طور پر لیطانی دریا کے جنوب میں حزب اللہ کی اسلحہ بندی مکمل کر لے گی،جو اسرائیل کی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہے۔

اسرائیل کے وزیر خارجہ گیدﺅن ساعر نے اتوار کو اس اسلحہ بندی کے اقدامات کو ”ناکافی“ قرار دیا۔بیروت کے سکیورٹی تجزیہ کار علی رزق نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ملاقات کے بعد یہ تازہ حملے کسی کے لیے حیران کن نہیں ہیں۔رزق نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے حماس کو بھی ہدف قرار دینا لبنان پر اضافی دباو ڈال رہا ہے کہ وہ نہ صرف حزب اللہ کے خلاف کارروائی کرے بلکہ کسی اور اسرائیل مخالف گروہ کے خلاف بھی قدم اٹھائے جو لبنانی سرزمین پر موجود ہو سکتا ہے۔لبنانی حکومت متوقع طور پر منگل کو فوج کی حزب اللہ کی اسلحہ بندی میں پیش رفت پر اجلاس کرے گی جبکہ حزب اللہ اب بھی طاقتور ہے،اگرچہ اسرائیل کی کارروائیوں میں اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑا،جس میں طویل عرصے سے اس کے رہنما حسن نصراللہ کی ہلاکت بھی شامل ہے،جو ستمبر 2024 میں ہوئی۔اقوام متحدہ، امریکہ،فرانس اور اسرائیل کے امن نگہداشت کمیٹی کے اجلاس بھی آئندہ دنوں میں متوقع ہیں تا کہ جنگ بندی کی نگرانی کی جا سکے۔اسرائیل کی مسلسل بمباری پر اقوام متحدہ نے سخت تنقید کی ہے اور نومبر میں رپورٹ دی تھی کہ جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے لبنان میں کم از کم 127 شہری، جن میں بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے اہلکاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ حملے ”جنگی جرائم“ کے زمرے میں آتے ہیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز