Home » اسلام آباد میں دل خراش ٹریفک حادثہ،دو جوان لڑکیاں جاں بحق،ہائی کورٹ جج کا بیٹا جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

اسلام آباد میں دل خراش ٹریفک حادثہ،دو جوان لڑکیاں جاں بحق،ہائی کورٹ جج کا بیٹا جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

by ahmedportugal
3 views
A+A-
Reset

اسلام آباد (ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (پی این سی اے) کے قریب پیر کی شب پیش آنے والے دل خراش ٹریفک حادثے میں دو نوجوان خواتین کی موقع پر ہی موت واقع ہونے کے بعد پولیس نے متاثرہ واقعے کے الزام میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد آصف کے بیٹے کو حراست میں لے کر عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

واقعے کی رپورٹ اور مقدمہ کے ابتدائی ریکارڈ کے مطابق ایک کالا ایس یو وی، جسے مبینہ طور پر ملزم (جج کے بیٹے) چلا رہے تھے، تیز رفتاری کے باعث سکوٹی پر سوار دو لڑکیوں کو ٹکرائے اور دونوں خواتین موقع پر جاں بحق ہو گئیں۔ حادثے کے فوراً بعد گاڑی موقع سے فرار ہوگئی تاہم پولیس نے گاڑی کے نمبر اور نشانات کی مدد سے ٹیمیں تشکیل دے کر ملزم کو ایک نجی ہسپتال سے گرفتاری کے بعد حراست میں لیا۔پولیس نے ابتدائی طور پر ملزم کے میڈیکل اور فرانزک نمونے حاصل کر لیے ہیں جبکہ گاڑی کو ضبط کر کے فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 279(لاپرواہ ڈرائیونگ)،322(قتلِ خطا) اور 427(املاک کو نقصان پہنچانا)شامل کی گئی ہیں۔عدالتی کارروائی کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ شاہستہ خان کنڈی نے پولیس کی استدعا پر جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ طبی رپورٹ کی تصدیق،گاڑی کے تکنیکی معائنے(فنی معائنہ)اور عینی شاہدین کے بیانات کی ریکارڈنگ کے لیے مزید جسمانی ریمانڈ درکار ہے،اسی بنیاد پر عدالت نے ریمانڈ جاری کیا ہے۔


پولیس حکام نے میڈیا کو بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج، روٹس کی کڑی انکوائری اور سپیشلائزڈ فرانزک ٹیسٹنگ کی جا رہی ہے تا کہ حادثے کے وقت گاڑی کی رفتار، ڈرائیونگ کے انداز اور ممکنہ مرنے یا بچنے کی تمام وجوہات واضح کی جا سکیں۔ پولیس نے متاثرہ خاندانوں کو یقین دلایا کہ تفتیش شفاف اور میرٹ کے مطابق عمل میں لائی جائے گی۔حکام نے واضح کیا کہ ابتدائی طبی معائنے کے بعد ملزم کو علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا تھا جہاں سے گرفتار کیا گیا،گرفتاری کے بعد اس کے طبی ریکارڈ اور طبیاتی نمونے ضبط کر کے باقاعدہ قانونی کارروائی کا حصہ بنایا گیا۔گاڑی کو بھی عبوری طور پر ضبط کر لیا گیا اور اسے فرانزک لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے تا کہ بریک سسٹم، ٹائر کے نشان،ایئر بیگز،الیکٹرانک لاگ اور دیگر تکنیکی شواہد کا معائنہ کیاجا سکے۔واقعے کے بعد پولیس، مقامی انتظامیہ اور دارالحکومت کے ٹریفک اداروں نے علاقے میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ممکنہ طور پر کسی بھی عینی شاہد یا متعلقہ فوٹیج کے بارے میں معلومات فوراً متعلقہ تھانے کو فراہم کریں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فوٹیج اور عینی شاہدوں کے بیانات واقعے کی نوعیت اور ملزم کے خلاف مضبوط شواہد فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔متاثرہ خاندانوں کی نمائندگی کرنے والے افراد نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عدالتی کارروائی میں کوئی رعایت نہ کی جائے اور انصاف جلد از جلد فراہم کیا جائے۔ادھر عدالت نے بھی سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ حادثات کے ایسے سانحات میں شفاف تفتیش اور میرٹ کے مطابق کارروائی بنیادی توقعات ہیں۔یہ افسوسناک واقعہ دارالحکومت میں ٹریفک حفاظت،ڈرائیونگ قوانین کی پاسداری اور تیز رفتار گاڑیوں کے حفاظتی ضوابط پر ایک بار پھر سوالات اٹھا گیا ہے جبکہ عدالت اور تفتیشی اداروں کی توجہ حادثے کی ہر پہلو سے علمی،قانونی اور فنی تحقیقات پر مرکوز ہے تا کہ مقتول خاندانوں کو بروقت انصاف فراہم کیا جا سکے اور آئندہ ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جائے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز