اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے طویل اور اہم مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے،جس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھنے اور جاری نازک جنگ بندی کے مستقبل پر خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔21 گھنٹوں پر محیط بات چیت کے باوجود دونوں ممالک کسی مشترکہ موقف تک نہ پہنچ سکے اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہمراہ امریکی وفد واشنگٹن جبکہ ایرانی وفد تہران واپس روانہ ہو گیا۔سفارتی کوششوں کی اس ناکامی نے نہ صرف عالمی سطح پر تشویش کو جنم دیا ہے بلکہ خطے کی سکیورٹی صورتحال کو بھی غیر یقینی بنا دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم اور طویل مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے،جس کے بعد خطے میں جاری نازک جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 21 گھنٹوں پر محیط نشستوں کے اختتام پر اعلان کیا کہ ان کا وفد بغیر کسی معاہدے کے واشنگٹن واپس جا رہا ہے جبکہ ایرانی وفد بھی گزشتہ رات تہران روانہ ہو چکا ہے۔اسلام آباد میں جاری ان مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا تھا تاہم فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار رہے۔
امریکی نائب صدر نے روانگی سے قبل پریس بریفنگ میں کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونا ایران کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے،کیونکہ امریکا نے اپنی شرائط اور ریڈ لائنز واضح طور پر پیش کر دی تھیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن کی جانب سے سب سے اہم مطالبہ یہ تھا کہ ایران واضح اور قابلِ اعتماد یقین دہانی کرائے کہ وہ نہ تو ایٹمی ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی ایسی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جس سے وہ تیزی سے جوہری طاقت بن سکے۔ان کے مطابق یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ ہے اور اسی مقصد کے تحت مذاکرات کیے گئے۔امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ امریکا نے مذاکرات کے دوران لچک اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور ایرانی وفد کو ایک جامع پیشکش بھی دی تاہم ایران نے امریکی شرائط کو قبول نہیں کیا۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی واضح اور مضبوط عزم سامنے نہیں آیا،جو معاہدے میں رکاوٹ کی بڑی وجہ بنا۔
مذاکرات کے دوران پاکستان نے میزبان اور سہولت کار کے طور پر اہم کردار ادا کیا۔ امریکی نائب صدر نے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس سفارتی عمل کو کامیاب بنانے کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا۔ذرائع کے مطابق مذاکرات میں کئی اہم امور زیر بحث آئے،جن میں خطے میں سکیورٹی صورتحال،پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور جوہری پروگرام کی نگرانی جیسے نکات شامل تھے تاہم کسی بھی معاملے پر حتمی اتفاق رائے نہ ہو سکا۔مذاکرات کی ناکامی کے بعد نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں مزید تناو کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے بلکہ دو ہفتوں سے جاری جنگ بندی کے برقرار رہنے پر بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر جلد کوئی سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔