اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والی” عالمی پیغامِ اسلام کانفرنس“ کو لے کر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں،جہاں امت مسلمہ کو درپیش اہم چیلنجز پر غور کیا جائے گا، اس اہم اجتماع میں کشمیر اور فلسطین سمیت حساس عالمی مسائل زیر بحث آئیں گے جبکہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور موثر لائحہ عمل طے کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایگزونیوز کے مطابق قومی امن کمیٹی پاکستان کے کو آرڈی نیٹر اور چیئرمین پاکستان علماءکونسل علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی نے اعلان کیا ہے کہ چھٹی”عالمی پیغامِ اسلام کانفرنس“ آج پورے تزک و احتشام کے ساتھ اسلام آباد میں منعقد ہوگی،جس میں امت مسلمہ کو درپیش اہم چیلنجز اور عالمی مسائل پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اہم کانفرنس میں مسئلہ کشمیر،فلسطین کی صورتحال اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون سمیت دیگر حساس امور زیر بحث آئیں گے۔انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں فلسطین کے مفتی اعظم سمیت سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کی نمایاں شخصیات شرکت کریں گی جبکہ تقریب کا افتتاح وزیر اعظم کریں گے اور اختتامی سیشن صدر مملکت کی سربراہی میں منعقد ہو گا۔
علامہ حافظ طایہر اشرفی نے کہا کہ اسلام آباد کو عالمی سطح پر امن کے مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور پاکستان کی کاوشوں کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے،حالیہ دنوں میں بھی سعودی عرب نے پاکستان کی امن و استحکام کے لیے کوششوں کی تعریف کی ہے۔علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ پیغام اسلام کانفرنس میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر زور دیا جائے گا جبکہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے مشترکہ موقف کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کے مفتی اعظم کی پاکستان آمد ایک اہم پیش رفت ہے اور پوری امتِ مسلمہ کی نظریں اس کانفرنس پر مرکوز ہیں،پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت مسلم دنیا کے اتحاد کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہے،جسے عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔