Home » اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ،عمران خان کو اہلخانہ سے ملاقات،بیٹوں سے واٹس ایپ کال اور روزانہ واک کی اجازت

اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ،عمران خان کو اہلخانہ سے ملاقات،بیٹوں سے واٹس ایپ کال اور روزانہ واک کی اجازت

by ahmedportugal
15 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل میں مبینہ قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف دائر درخواستوں کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے دونوں کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کرنے اور انہیں قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے کی ہدایت کردی۔
ایگزو نیوز کے مطابق جسٹس خادم حسین سومرو کی جانب سے جاری 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ جیل حکام سے 15 روز کے اندر عملدرآمد رپورٹ بھی طلب کی گئی ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق عمران خان کی ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور دیگر اہلخانہ سے ملاقاتیں جیل رولز کے مطابق کرائی جائیں۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو ان کے بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے کی سہولت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے،جس کے تحت واٹس ایپ کے ذریعے آڈیو اور ویڈیو کال کی اجازت دی جاسکتی ہے۔فیصلے میں تاہم واضح کیا گیا ہے کہ اگر اس رابطے یا واٹس ایپ کال کی سہولت کو سیاسی مہم کے لیے استعمال کیا گیا تو اسے معطل کیا جاسکتا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ سیکیورٹی کا جواز پیش کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو گفتگو اور رابطے کے بنیادی حق سے مکمل طور پر محروم نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے عمران خان کو طبی ماہرین کی سفارشات کے مطابق روزانہ ایک گھنٹے کی واک کی سہولت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔فیصلے میں جیل انتظامیہ کو پابند کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کی صحت سے متعلق ضروری طبی سہولیات جیل رولز کے مطابق فراہم کی جائیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو روزانہ اخبارات اور کتابیں فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے تاکہ جیل میں رہتے ہوئے انہیں مطالعے اور معلومات تک رسائی حاصل رہے۔عدالتی فیصلے میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو خصوصی طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے اور جیل قوانین کے تحت انہیں دستیاب سہولیات فراہم کی جائیں۔یہ درخواستیں عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے ان کی بیٹی مبشرہ خاور مانیکا نے دائر کی تھیں،جن میں دونوں قیدیوں کو مبینہ طور پر الگ تھلگ رکھنے کے معاملے پر عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں سابق عدالتی نظائر،بالخصوص نصرت بھٹو کیس اور بیگم شمیم آفریدی سے متعلق فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیا اور جیل انتظامیہ کو عدالتی ہدایات پر عملدرآمد کا پابند بنایا۔

فیصلے کے مطابق جیل حکام کو اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ ملاقاتوں،ٹیلی فونک رابطے،طبی سہولیات،مطالعے اور روزانہ واک سمیت عدالت کی جانب سے دی گئی ہدایات پر جیل قوانین کے مطابق عمل کیا جائے۔عدالت نے واضح کیا کہ جیل میں قید ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی شخص کو قانون میں فراہم کردہ تمام جائز سہولیات اور رابطے کے حقوق سے محروم کردیا جائے تاہم جیل میں دستیاب سہولیات کا استعمال قانون،جیل قواعد اور عدالتی ہدایات کے دائرے میں رہنا ضروری ہو گا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد اب اڈیالہ جیل انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ عدالت کی مقرر کردہ ہدایات پر مقررہ مدت میں عملدرآمد کرے اور اس حوالے سے رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز