اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر آمادگی ظاہر کر چکا تھا اور جوہری مذاکرات میں مثبت پیشرفت بھی ہو رہی تھی، اس کے باوجود اس پر حملہ کیا گیا، حالیہ کشیدگی کے بعد بھی بیک ڈور رابطوں کے ذریعے معاملہ سلجھانے کی کوشش جاری ہے، خلیجی ممالک میں مجموعی طور پر 45 لاکھ سے زائد پاکستانی کام کر رہے ہیں،وزارت خارجہ میں کرائسز مینجمنٹ سیل چوبیس گھنٹے فعال اور اس کے رابطہ نمبرز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے ہیں،حکومت پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور محفوظ انخلا کے لیے ہنگامی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بگڑتی صورتحال پر تفصیلی موقف پیش کیا اور کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک میں حالات انتہائی تشویشناک ہیں جبکہ متعدد فضائی روٹس بند ہونے کے باعث پاکستان سمیت مختلف ممالک کے شہری مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے 28 فروری کو اس صورتحال پر پہلا ردعمل دیا تھا اور بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنائی کی شہادت پر تعزیتی بیان بھی جاری کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ جون میں ایران پر حملے کے دوران بھی پاکستان نے پسِ پردہ سفارتی کوششیں کیں اور حالیہ کشیدگی کے بعد بھی بیک ڈور رابطوں کے ذریعے معاملہ سلجھانے کی کوشش جاری ہے،گزشتہ تین روز کے دوران پاکستان نے متعدد ممالک سے رابطے کیے ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور مسئلے کا حل افہام و تفہیم سے نکالا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران کے جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے حق کی حمایت کی ہے اور یہ موقف اپنایا ہے کہ تنازع کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل ہونا چاہیے۔وزیر خارجہ کے مطابق پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو مشرقِ وسطیٰ اور ایران اسرائیل کشیدگی پر اِن کیمرہ بریفنگ دی جائے گی۔پاکستانیوں کی موجودہ صورتحال سے متعلق اسحاق ڈار نے بتایا کہ خلیجی ممالک میں مجموعی طور پر 45 لاکھ سے زائد پاکستانی کام کر رہے ہیں،قطر میں ساڑھے تین لاکھ پاکستانی مقیم ہیں جن میں تقریباً 1450 افراد وزٹ ویزے پر موجود ہیں جبکہ کویت میں ایک لاکھ دو ہزار اور عراق میں تقریباً 40 ہزار پاکستانی موجود ہیں۔ایران میں اس وقت 33 سے 35 ہزار پاکستانی مقیم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایرانی میزائل حملوں کے دوران ابوظبی میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہوا،اب تک 64 پاکستانیوں کو آذربائیجان منتقل کیا جا چکا ہے،792 پاکستانی ایران سے واپس آ چکے ہیں جبکہ 300 ایرانی شہری پاکستان پہنچے ہیں،کمرشل پروازیں معطل ہیں تاہم تفتان سمیت بعض زمینی سرحدی راستے کھلے ہیں،اگرچہ زمینی سفر طویل اور دشوار ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ وزارت خارجہ میں کرائسز مینجمنٹ سیل چوبیس گھنٹے فعال ہے اور اس کے رابطہ نمبرز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے ہیں، تہران،زاہدان اور مشہد میں ہنگامی مراکز قائم ہیں جبکہ ابوظبی میں سفارت خانہ اور دبئی و جدہ میں قونصل خانے بھی مکمل طور پر متحرک ہیں،آذربائیجان کی سرحد پر پاکستانیوں کو ویزا سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران پاکستان کا برادر ہمسایہ ملک ہے اور پاکستان نے ایران پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے،پاکستان نے فوری طور پر ایران،خطے کے ممالک اور عالمی قیادت سے رابطے کیے اور ثالثی کے لیے اسلام آباد میں مذاکرات کی پیشکش بھی کی۔انہوں نے تسلیم کیا کہ ایران اور خلیجی ریاستوں کی فضائی حدود کی بندش کے باعث صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے اور متعدد افراد مختلف ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں تاہم حکومت پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور محفوظ انخلا کے لیے ہنگامی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔