Home » اسلحہ لائسنس اجرا میں سنگین بے ضابطگیاں،34 دنوں میں 46 ہزار لائسنس جاری ہونے کا انکشاف،وزارت داخلہ اور نادرا آمنے سامنے

اسلحہ لائسنس اجرا میں سنگین بے ضابطگیاں،34 دنوں میں 46 ہزار لائسنس جاری ہونے کا انکشاف،وزارت داخلہ اور نادرا آمنے سامنے

by ahmedportugal
13 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)اسلحہ لائسنس کے اجرا میں مبینہ سنگین بے ضابطگیوں سے متعلق سامنے آنے والی آڈٹ رپورٹ نے نظامِ نگرانی اور شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں،جہاں مختصر مدت میں غیر معمولی تعداد میں لائسنس جاری ہونے اور قومی خزانے کو کروڑوں روپے کے نقصان کے انکشافات نے معاملے کی سنگینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ اور نادرا کے درمیان ریکارڈ اور طریقہ کار میں تضادات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ذمہ داران کے تعین اور جامع تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی آڈٹ رپورٹ میں اسلحہ لائسنس کے اجرا سے متعلق سنگین بے ضابطگیوں اور ممکنہ جعلسازی کا بڑاسکینڈل سامنے آ گیا ہے،جس میں وزارت داخلہ اور نادرا کے درمیان جاری عمل پر کئی اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے 10 ہزار 464 کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس کو مشکوک قرار دیتے ہوئے ان پر مزید عمل درآمد روک دیا ہے۔آڈٹ دستاویزات کے مطابق 2010 سے 2024 کے دوران وزارت داخلہ نے ایک لاکھ 76 ہزار 963 اسلحہ لائسنس بکس جاری کیے تاہم نادرا کی جانب سے جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ لائسنسوں کی تعداد ایک لاکھ 86 ہزار 254 بتائی گئی،جو سرکاری ریکارڈ سے تقریباً 9 ہزار سے زائد زیادہ ہے۔رپورٹ میں اس اضافی اجرا کو مشکوک قرار دیتے ہوئے اس کی مکمل تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ 34 سو سے زائد اسلحہ لائسنسوں کی فیس قومی خزانے میں جمع نہیں کرائی گئی،جس کے باعث ساڑھے 5 کروڑ روپے سے زائد کا مالی نقصان ہوا۔اس کے علاوہ ہزاروں لائسنسوں کا مکمل ریکارڈ دستیاب نہ ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے،جس سے شفافیت اور نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023 اور 2024 کے دوران محض 34 ورکنگ دنوں میں 46 ہزار 203 اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے، جو 27 جنوری سے 13 مارچ 2024 کے درمیانی عرصے پر مشتمل ہیں۔اتنے قلیل وقت میں بڑی تعداد میں لائسنسوں کے اجرا کو بھی غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اس کی چھان بین کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔آڈیٹر جنرل نے اپنی سفارشات میں جعلی لائسنسوں کے اجرا،اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیوں پر ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی تجویز دی ہے۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس معاملے کی شفاف اور جامع تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ نہ صرف ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام بھی ممکن ہو سکے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز