اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگرچہ براہِ راست جنگ کے امکانات کم ہیں، تاہم کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں بھرپور اور فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق جنوبی ساحلی علاقوں کو دشمن کے لیے غیر محفوظ بنا دیا جائے گا، اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں حملہ آوروں کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی، جس سے خطے کی صورتحال مزید حساس رخ اختیار کر سکتی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ایک بار پھر سخت اور واضح پیغام سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ براہِ راست جنگ کے امکانات کم ہیں، تاہم کسی بھی ممکنہ جارحیت کا جواب دینے کے لیے ایرانی مسلح افواج مکمل طور پر تیار اور چوکس ہیں۔ نیم سرکاری ذرائع کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ سے وابستہ سینئر عہدیدار نے نہ صرف دشمن کی کمزوری کا حوالہ دیا بلکہ یہ بھی باور کرایا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دے گا۔بیان میں جنوبی ساحلی پٹی کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ چاہ بہار سے ماہشہر تک کا علاقہ کسی بھی حملہ آور کے لیے محفوظ نہیں رہے گا، اور اگر ایران کے خلاف کوئی مہم جوئی کی گئی تو اسے سخت اور فیصلہ کن ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ ایسی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے جو کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں دشمن کو حیران کر سکتی ہے۔واضح رہے کہ یہ بیان خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے، جس میں ایک طرف جنگ کے امکانات کو کم قرار دیا گیا ہے تو دوسری جانب بھرپور دفاعی تیاری کا پیغام دے کر مخالفین کو واضح انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے۔
حملہ ہوا تو ساحل دشمن کا قبرستان بن جائے گا،ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی امریکہ کو دھمکی
16