اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)عراق کے وزیراعظم علی الزیدی سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے ہیں جہاں وائٹ ہاوس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔اس اعلیٰ سطح دورے کے دوران دونوں رہنماوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات،علاقائی سلامتی،دفاعی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عراق خطے میں امن و استحکام کے فروغ،سیکیورٹی تعاون کے استحکام اور اقتصادی روابط کو وسعت دینے کے لیے سرگرم ہے۔ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے،مستقبل کے لائحہ عمل کی تشکیل اور باہمی مفادات کے تحفظ پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق امریکا اور عراق کے درمیان انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون جاری ہے جبکہ عراق میں موجود امریکی افواج کے کردار،مستقبل اور سیکیورٹی معاملات بھی مذاکرات کے اہم ایجنڈے کا حصہ ہیں۔اس کے علاوہ دفاعی تعاون کو مزید موثر بنانے اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں مشترکہ حکمت عملی پر بھی غور کیا جائے گا۔
تجزیہ کار اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں اور ان کے مطابق اس سے سیاسی،اقتصادی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔امریکی اور عراقی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں خطے کی مجموعی صورتحال،مشترکہ چیلنجز،امن و استحکام کے قیام اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے امکانات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔واضح رہے کہ امریکا نے 2011 میں عراق سے اپنی افواج واپس بلا لی تھیں تاہم 2014 میں شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف کارروائیوں میں عراقی فورسز کی معاونت کے لیے دوبارہ فوجی موجودگی قائم کی گئی،جو اب بھی عراق کے مختلف علاقوں بشمول کردستان ریجن میں برقرار ہے۔