اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کے مرکز کے طور پر ابھر آیا ہے جہاں ایران کی اعلیٰ قیادت اہم مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ چکی ہے۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اس پیش رفت کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے اعلیٰ سطح پر استقبال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک اس عمل میں کلیدی سفارتی کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے جہاں ایران کا اعلیٰ سطح وفد امریکا کے ساتھ متوقع مذاکرات میں شرکت کے لیے پہنچ گیا ہے، اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر اہم حکام بھی وفد میں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفد میں دفاعی، اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی امور سے وابستہ اعلیٰ عہدیداران بھی شامل ہیں جو مختلف پہلووں پر بات چیت کریں گے۔اسلام آباد پہنچنے پر ایرانی وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے، اس موقع پر پاکستان نے ایک بار پھر تنازع کے پرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ مذاکرات تعمیری ماحول میں آگے بڑھیں گے اور فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی مثبت نتیجے تک پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار سہولت کار کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔دوسری جانب امریکا کا اعلیٰ سطح وفد بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچنے کے مراحل میں ہے، جس کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکی وفد میں اہم سفارتی شخصیات شامل ہیں اور ان کی آمد کے بعد مذاکرات کا باقاعدہ آغاز متوقع ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی اس عمل پر ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے مذاکرات کے لیے ایک مضبوط ٹیم بھیجنے کا عندیہ دیا اور کہا کہ جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ توانائی کے عالمی راستوں میں بہتری کی توقع ہے اور اہم معاملات پر پیش رفت ممکن ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان یہ مذاکرات نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کے امن اور عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ ملاقاتیں سفارتی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہیں، جہاں کسی بھی مثبت پیش رفت سے کشیدگی میں نمایاں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔
ایرانی قیادت مذاکرات کیلئے پاکستان پہنچ گئی،فیلڈ مارشل اور اسحاق ڈار سمیت اہم شخصیات کا پرتپاک استقبال
4