اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)مسقط میں اہم سفارتی سرگرمیوں کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی دوبارہ پاکستان آمد نے خطے میں جاری سفارتی تحرک کو مزید تیز کر دیا ہے جبکہ ان کی جانب سے پاکستان کے بعد روس جانے کے اعلان کو ایک وسیع تر علاقائی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس پیش رفت کو نہ صرف ایران کی متحرک سفارت کاری بلکہ خطے میں ممکنہ نئے اتحادوں اور امن کوششوں کے تناظر میں بھی انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مسقط کے اہم سفارتی دورے کے بعد ایک بار پھر پاکستان پہنچ گئے ہیں،جسے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ایرانی حکام کے مطابق وہ اپنے دورہ پاکستان کے بعد روس روانہ ہوں گے،جہاں ممکنہ طور پر علاقائی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر مشاورت کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق عباس عراقچی کا حالیہ دورہ ایک وسیع تر سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے،جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور جنگی صورتحال کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے قابلِ عمل راستے تلاش کرنا ہے۔انہوں نے اس سے قبل پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے قیامِ امن کے لیے اسلام آباد کی کوششوں کو نہایت اہم قرار دیا تھا۔ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیانات میں اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران نے تنازع کے خاتمے کے لیے ایک واضح اور قابلِ عمل فریم ورک پیش کیا ہے تاہم اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکا سفارت کاری کے حوالے سے کس حد تک سنجیدہ ہے؟۔ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے عالمی طاقتوں کا ذمہ دارانہ کردار ناگزیر ہے۔
یاد رہے کہ اپنے گزشتہ دورہ اسلام آباد کے دوران عباس عراقچی نے وزیر اعظم اور عاصم منیر سے اہم ملاقاتیں کی تھیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، سیکیورٹی تعاون اور خطے کی بدلتی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ ایران،پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی روابط خطے میں نئی جغرافیائی و سیاسی صف بندی کی نشاندہی کر سکتے ہیں جبکہ یہ پیش رفت عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے تناظر میں بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔