تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر عوامی ردعمل غیر معمولی صورت اختیار کر گیا ہے،جہاں شہریوں نے خود ہی اہم قومی تنصیبات کے تحفظ کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ملک کے مختلف شہروں میں پلوں،بجلی گھروں اور حساس مقامات کے گرد انسانی زنجیریں قائم کر کے عوام نے نہ صرف یکجہتی کا مظاہرہ کیا بلکہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی خطرے کے مقابلے میں متحد ہیں۔اس صورتحال کو ماہرین عوامی بیداری، قومی جذبے اور دفاع وطن کے عزم کی علامت قرار دے رہے ہیں،جو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی دھمکیوں کے بعد ملک بھر میں عوامی ردعمل شدت اختیار کر گیا ہے،جہاں شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور اہم قومی تنصیبات کے تحفظ کے لیے انسانی زنجیریں قائم کر دیں۔شمال مغربی شہر تبریز سمیت مختلف علاقوں میں لوگوں نے پلوں، بجلی گھروں اور دیگر حساس مقامات کے گرد جمع ہو کر ممکنہ حملوں کے خلاف مزاحمت کا عملی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے ایرانی پرچم اٹھا کر قومی یکجہتی کا اظہار کیا اور امریکا کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ ان اجتماعات میں خواتین،طلبہ،بزرگ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی،جس سے یہ واضح ہوا کہ عوام ملک کے دفاع کے لیے ہر سطح پر متحرک ہیں۔رپورٹس کے مطابق ایرانی نائب وزیر برائے نوجوان امور علیرضا رہیمی کی جانب سے نوجوانوں،طلبہ،فنکاروں اور کھلاڑیوں کو اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے آگے آنے کی اپیل کی گئی تھی، جس کے بعد یہ سرگرمیاں مزید تیز ہو گئیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباو یا دھمکی سے مرعوب نہیں ہوں گے اور اپنے ملک کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی قیادت کی جانب سے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کیا گیا ہے اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ان حالات میں ایرانی عوام کی جانب سے انسانی زنجیریں قائم کرنا نہ صرف ممکنہ خطرات کے خلاف ایک عملی اقدام قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے قومی اتحاد اور مزاحمت کی علامت بھی سمجھا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام نے ان اقدامات کو ملک کے روشن مستقبل کے لیے نوجوانوں کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ سرکاری اور نیم سرکاری ذرائع ابلاغ نے ان مناظر کو عوامی یکجہتی، عزم اور دفاع وطن کے جذبے کی واضح عکاسی قرار دیا ہے، جو موجودہ کشیدہ حالات میں ایران کے اندر مضبوط قومی ہم آہنگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔