ابو ظہبی(ایگزو نیوز ڈیسک)ابوظہبی میں ایرانی بیلسٹک میزائل کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کیے جانے کے بعد اس کا ملبہ شہری آبادی پر آ گرا،جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی شہری سمیت دو افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔حکام کے مطابق واقعہ سویحان سٹریٹ پر پیش آیا،جس نے نہ صرف جانی نقصان کیا بلکہ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ابوظہبی میں بیلسٹک میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی شہری سمیت مزید دو افراد جاں بحق جبکہ تین زخمی ہو گئے،واقعہ سویحان سٹریٹ پر پیش آیا جہاں اماراتی حکام نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔متعلقہ اداروں کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فضائی دفاعی نظام نے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تاہم اس کا ملبہ شہری علاقے میں آ گرا جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔پاکستانی سفارت خانے نے واقعے میں پاکستانی شہری کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ میت کی جلد وطن منتقلی کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔سفارتی ذرائع کے مطابق مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانی مشن متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے۔
اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ ملبہ گرنے سے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہوا بلکہ متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔واقعے کے فوراً بعد ریسکیو،سکیورٹی اور دیگر متعلقہ ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ صورت حال کو مکمل طور پر کنٹرول میں کر لیا گیا۔ابوظہبی میڈیا حکام کے مطابق ابتدائی معلومات کے مطابق ملبہ سویحان سٹریٹ پر گرا جس کے باعث جانی نقصان کے ساتھ ساتھ املاک کو بھی نقصان پہنچا جبکہ مزید تفصیلات مرحلہ وار جاری کی جائیں گی۔حکام نے اس مرحلے پر محتاط انداز میں صرف مصدقہ معلومات جاری کرنے پر زور دیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب متحدہ عرب امارات کو گزشتہ کئی ہفتوں سے ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا سامنا ہے،جو 28 فروری سے جاری ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ان حملوں میں متعدد غیر ملکی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ حالیہ واقعہ خطے میں جاری کشیدگی کی سنگینی کو مزید اجاگر کر رہا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق اگرچہ فضائی دفاعی نظام نے میزائل کو فضا میں ہی ناکام بنا دیا تاہم ملبے کا شہری علاقوں میں گرنا ایک سنجیدہ سکیورٹی چیلنج ہے،جو نہ صرف امارات بلکہ پورے خطے کے لیے خطرے کی علامت ہے۔موجودہ صورتحال میں حکام کی توجہ فوری ردعمل کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام پر مرکوز ہے۔