نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے امریکہ کو سخت اور غیر معمولی نتائج سے خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر ایران پر کسی بھی قسم کا حملہ کیا گیا تو تہران ایسا جواب دے گا جو عالمی سطح پر اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہو گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق نیویارک میں بدھ کے روز جاری ایک بیان میں ایرانی مشن کا کہنا تھا کہ ایران باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم دباو،دھمکی یا جارحیت کی صورت میں ملک اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔ایرانی مشن نے اپنے بیان میں اس امر پر زور دیا کہ مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے مگر یہ صرف مساوی حیثیت اور باہمی احترام کے اصولوں کے تحت ہی ممکن ہو سکتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ایران عالمی برادری کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسائل کے پرامن حل کا خواہاں ہے لیکن اپنی سلامتی اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔بیان میں امریکہ کو ماضی کی جنگوں کی یاد دلاتے ہوئے کہا گیا کہ جب امریکہ نے عراق اور افغانستان میں مداخلت کی تو اسے تقریباً 7 کھرب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا اور 7 ہزار سے زائد فوجی ہلاک ہوئے۔ایرانی مشن کے مطابق یہ مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگی راستہ کسی بھی فریق کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ایرانی مشن نے یہ پیغام سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بھی جاری کیا،جس کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک پوسٹ کا سکرین شاٹ بھی شامل کیا گیا۔مشن نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران پر غیر ضروری دباو ڈالنے سے گریز کرے تا کہ خطے میں کشیدگی کم اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ایران نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ مذاکرات کی گنجائش موجود ہے مگر کسی بھی جارحیت کی صورت میں اس کا رد عمل فیصلہ کن،سخت اور غیر معمولی ہو گا،جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔
حملہ ہوا تو ایسا جواب دیں گے جو دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا،ایران کا امریکہ کو دو ٹوک اور سخت پیغام
12