Home » دوبارہ حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیں گے،ایران نے امریکا کو واضح پیغام دے دیا

دوبارہ حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیں گے،ایران نے امریکا کو واضح پیغام دے دیا

by ahmedportugal
13 views
A+A-
Reset

تہران (ایگزو نیوز ڈیسک)پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ امریکی حملے کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ایرانی مسلح افواج جنگ کی صورت میں بھرپور مزاحمت کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق جنرل حسین محبی نے امریکا کو خبردار کیا کہ ایران کے کسی بھی مقام کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے،خصوصاً پِک ایکس ماونٹین کے حوالے سے انہوں نے واضح انتباہ جاری کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی سرزمین اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر طرح کے ممکنہ ردعمل کی تیاری رکھتا ہے۔پاسداران انقلاب کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج اس وقت کسی بھی ممکنہ جنگی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ان کے مطابق ایران نے طویل جنگ کے امکانات کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے اپنی دفاعی تیاریوں کو برقرار رکھا ہوا ہے۔جنرل حسین محبی نے امریکا پر زور دیا کہ وہ ماضی میں کی جانے والی ان کوششوں کو دوبارہ نہ دہرائے جن میں ان کے بقول اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر کسی بھی نئے حملے کے نتائج کا سامنا امریکا کو کرنا پڑے گا،ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر قومی مفادات کا تقاضا ہوا تو ایران جنگ کے لیے تیار ہے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گا۔

تازہ بیان میں ایرانی ترجمان نے صرف جنگی تیاری پر ہی زور نہیں دیا بلکہ مذاکرات کے امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا،ایران کے لیے جنگ اور مذاکرات ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے اور فیصلہ اس بنیاد پر کیا جائے گا کہ ملک کے قومی مفادات کس راستے سے بہتر طور پر محفوظ ہوتے ہیں۔جنرل حسین محبی نے کہا کہ اگر قومی مفادات کا تقاضا جنگ کرنا ہو تو ایران جنگ کرے گا، جبکہ اگر قومی مفادات کے لیے جنگ کے ساتھ مذاکرات بھی ضروری ہوں تو ایران مذاکرات کا راستہ بھی اختیار کرسکتا ہے۔ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران عسکری تیاری کے ساتھ سفارتی راستے کو بھی مکمل طور پر بند نہیں سمجھتا۔پاسداران انقلاب کے ترجمان نے حالیہ جنگی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی فوجی موجودگی اور خطے میں اس کے عسکری ڈھانچے پر بھی تنقید کی۔ان کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی فوجی موجودگی،انٹیلی جنس صلاحیتوں اور خطے میں موجود فوجی اڈوں سے متعلق بعض کمزوریاں سامنے آئی ہیں۔

ایرانی موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خلیج،آبنائے ہرمز اور خطے کے دیگر علاقوں میں فوجی صورتحال مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔تازہ رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی امریکا پر دباو کم کرنے اور فوجی کارروائیاں روکنے کی صورت میں سفارتی راستے کی گنجائش ظاہر کی ہے۔ایرانی حکام کی جانب سے مسلسل ایسے بیانات سامنے آ رہے ہیں جن میں ایک طرف کسی بھی ممکنہ امریکی کارروائی کا جواب دینے کی تیاری کا اعلان کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کا راستہ بھی مکمل طور پر بند نہیں کیا جا رہا۔جنرل حسین محبی کے تازہ بیان میں بھی یہی موقف نمایاں ہے کہ ایران جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاہم جنگی تیاری کو مذاکرات کے امکان کی نفی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ان کے مطابق حتمی فیصلہ ایران کے قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ایران کی جانب سے یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات موجود ہیں۔اسی تناظر میں ایرانی قیادت کی جانب سے عسکری تیاری، قومی مفادات کے تحفظ اور سفارتی رابطوں،تینوں پہلووں کو بیک وقت اجاگر کیا جا رہا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز