تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو انٹیلی جنس سے متعلق غلط اندازوں پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے میں اس سے بھی بڑی غلط فہمی یا غلط اندازے کا خطرہ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ جعلی خبروں سے زیادہ خطرناک جعلی انٹیلی جنس ہے،اس لیے کسی بھی اقدام سے قبل انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق عباس عراقچی نے ایک پیغام میں کہا کہ امریکا طویل عرصے سے انٹیلی جنس کی ناکامیوں کے باعث غلط اندازے لگاتا رہا ہے اور ایران کے خلاف جنگ بھی ان ناکامیوں کی ایک واضح مثال ہے۔ان کے مطابق اگر ماضی کے تجربات سے سبق نہ سیکھا گیا تو آبنائے ہرمز کے معاملے میں بھی سنگین غلط فہمی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ”جعلی خبریں“ ایک مسئلہ ضرور ہیں تاہم ان سے بھی زیادہ خطرناک وہ غلط یا گمراہ کن انٹیلی جنس ہے جس کی بنیاد پر ریاستیں بڑے فیصلے کرتی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے میں کسی بھی غلط اندازے کے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بڑے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔عراقچی نے اپنے پیغام کے اختتام پر مذہبی انداز میں کہا کہ اللہ زمین کی کسی بھی طاقت سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اور ایران اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ نے فرانس سمیت بعض مغربی ممالک پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران میں داخلی اختلافِ رائے سے نمٹنے کے معاملے پر تہران کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے لیکچر دیتے ہیں لیکن غزہ اور مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی مبینہ کارروائیوں کے حوالے سے موثر اقدامات نہیں کرتے۔عباس عراقچی نے کہا کہ فرانس جیسے ممالک کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے بارے میں ایران کو نصیحت کرنے سے قبل اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔ان کے مطابق مغربی ممالک کا موقف دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے اور یہ تضاد ان کے بقول واضح اور قابلِ اعتراض ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران تمام تر دباو کے باوجود مزاحمت کے لیے تیار ہے اور اپنے شہدا کو فراموش نہیں کرے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور دباو کے باوجود اپنی سلامتی اور قومی مفادات کا دفاع جاری رکھے گا۔
امریکا کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر عباس عراقچی نے کہا کہ اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہورہی تاہم ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ان کے مطابق اگر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع نہیں کرے گا۔عراقچی نے واضح کیا کہ جب تک امریکی خلاف ورزیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا،براہِ راست مذاکرات کی بحالی کے امکانات محدود رہیں گے۔ان کے مطابق ایران کسی ایسے مذاکراتی عمل میں شامل نہیں ہو گا جس میں سابقہ سمجھوتوں یا مفاہمتی فریم ورک کی بنیادی شرائط کی خلاف ورزی جاری رہے۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان اسٹریٹجک آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت کے انتظام سے متعلق معاہدہ حتمی مراحل میں پہنچ چکا ہے۔اس حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان نئے طریقہ کار پر بات چیت جاری ہے اور فریقین اپنی اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی قابلِ قبول انتظام تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں تاہم عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران اور عمان کے درمیان ممکنہ معاہدہ طے پانے کے باوجود آبنائے ہرمز فوری طور پر مکمل طور پر کھولنے کا مطلب نہیں ہو گا۔ اس معاملے کی عملی صورتِ حال اس بات سے منسلک رہے گی کہ مجوزہ انتظام کس طرح نافذ ہوتا ہے اور فریقین بحری آمدورفت کے حوالے سے کن شرائط پر اتفاق کرتے ہیں۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے، اس لیے اس کے گرد جاری تنازع نے نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر بھی توجہ مرکوز کردی ہے۔ موجودہ صورتحال میں کسی بھی انتظام کی کامیابی کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ بحری جہازوں کی محفوظ اور قابلِ پیش گوئی آمدورفت کس حد تک یقینی بنائی جاتی ہے۔عراقچی کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ایک طرف آبنائے ہرمز کے معاملے پر علاقائی سطح پر عمان کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے اپنی شرائط پر قائم ہے۔تہران کا بنیادی موقف یہ ہے کہ کسی بھی نئے مذاکراتی مرحلے سے قبل امریکی اقدامات اور مفاہمتی شرائط کی پابندی واضح ہونی چاہیے۔ایرانی وزیر خارجہ کے حالیہ بیانات میں امریکا، فرانس اور دیگر مغربی ممالک کے بارے میں سخت لہجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران اب بھی علاقائی سلامتی،پابندیوں،غزہ کی صورتحال اور آبنائے ہرمز جیسے معاملات کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا سمجھتا ہے۔ایسے میں کسی بھی سفارتی پیش رفت کا دارومدار فریقین کے درمیان بالواسطہ رابطوں،علاقائی ثالثی اور اعتماد سازی پر ہوگا۔