تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران نے سعودی عرب، اردن اور جاپان کو ایران کے خلاف قرارداد کی حمایت پر سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تینوں ممالک کو اپنے اس موقف کے نتائج کا سامنا کرنا ہو گا جبکہ تہران نے موجودہ علاقائی صورتحال کو جنگی کیفیت قرار دیتے ہوئے سمندری پابندیوں اور ناکہ بندی کو جنگ کے مترادف قرار دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان ہونے والے اجلاس پر ردعمل میں کہا کہ خطے کے مسائل کا حل غیرملکی قوتوں کی مداخلت کے بغیر مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ان کے مطابق مختلف ممالک کو اس موقف پر قائل کرنا معمولی کامیابی نہیں بلکہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ سعودی عرب،اردن اور جاپان نے ایران کے خلاف قرارداد کی حمایت کی ہے اور انہیں اس فیصلے کے نتائج کا سامنا کرنا ہو گا۔انہوں نے واضح کیا کہ تہران خود کو اس وقت نہ مکمل جنگ اور نہ ہی امن کی کیفیت میں سمجھتا ہے بلکہ ان کے بقول ایران ”حالتِ جنگ“ میں ہے۔ایرانی ترجمان نے سمندری پابندیوں اور ناکہ بندی کے معاملے پر بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف ایسی کارروائیاں جنگ کے مترادف ہیں،موجودہ صورتحال میں ایران کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو دفاع کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے اسماعیل بقائی نے دعویٰ کیا کہ یہ اہم آبی گزرگاہ اب بھی ایران کے مکمل کنٹرول میں ہے۔انہوں نے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال کے معاشی اثرات کی ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں نائن الیون کے واقعے کا بھی حوالہ دیا۔امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کے ایک بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسماعیل بقائی نے دعویٰ کیا کہ نائن الیون کے حملوں میں ملوث عناصر کو ماضی میں امریکا کی جانب سے ہتھیار اور معاونت فراہم کی گئی تھی۔اسماعیل بقائی نے امریکی وزیر جنگ کے بیان کو ان کے بقول بنیادی تضادات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو قوتیں جارحیت اور شہریوں کے قتل کی مرتکب ہوں،انہیں دوسرے ممالک کے اقدامات کے جائز یا ناجائز ہونے پر سوال اٹھانے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
ایرانی ترجمان نے الزام عائد کیا کہ جن عناصر کو امریکا نے ماضی میں مسلح اور منظم کیا،وہی بعد میں نائن الیون کے واقعات کا سبب بنے، 11 ستمبر کے حملوں کے بعد امریکا کی جانب سے شروع کی گئی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ نے افغانستان اور عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔انہوں نے نائن الیون کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے جواز کے طور پر پیش کرنے کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز قرار دیا۔اسماعیل بقائی نے امریکا پر ایرانی حکام،شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف موجودہ جنگ ان کے موقف کے مطابق غیر قانونی ہے اور اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ قرار نہیں دیا جاسکتا،دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کسی بھی ملک کو شہریوں کو نشانہ بنانے کا قانونی یا اخلاقی جواز فراہم نہیں کرتا۔تہران کے ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ایران موجودہ کشیدگی کو محض محدود سفارتی یا اقتصادی تنازع کے بجائے وسیع تر جنگی تناظر میں دیکھ رہا ہے جبکہ سعودی عرب،اردن اور جاپان کو ایران مخالف قرارداد کی حمایت پر براہ راست خبردار کرکے تہران نے اپنے سفارتی ردعمل میں مزید سختی کا اشارہ دیا ہے۔دوسری جانب آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول اور سمندری پابندیوں کو جنگ قرار دینے کا موقف خطے میں جاری کشیدگی کے عالمی توانائی منڈیوں پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
ایران کا سعودی عرب،اردن اور جاپان کو سخت انتباہ،ایران مخالف قرارداد کی حمایت کے نتائج بھگتنا ہوں گے
7