اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے،جہاں پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کے دعوے نے خطے میں سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان دعووں کے بعد خلیجی خطے میں بے چینی اور عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ صورتحال تیزی سے ایک بڑے جغرافیائی سیاسی بحران کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
ایگزو نیو ز کے مطابق خلیجی خطے میں کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک سطح تک پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں،جہاں ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے مبینہ امریکی حملوں کے بعد جوابی کارروائیوں کے دعوے کیے گئے ہیں۔سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب پیش آنے والے واقعات کے بعد خطے میں صورتحال انتہائی حساس ہو گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد دونوں جانب سے فوجی ردعمل کی اطلاعات سامنے آئیں،جس میں بحری اور فضائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے شامل ہیں۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں خطے میں موجود مختلف امریکی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات پہلے سے جاری کشیدگی اور مبینہ حملوں کے جواب میں کیے گئے جبکہ اس دوران متعدد حساس علاقوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔دوسری جانب آزاد ذرائع سے ان دعووں کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی تاہم صورتحال کو خطے میں بڑھتی ہوئی جیوپولیٹیکل کشیدگی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔