واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران اور امریکا کے درمیان جاری ڈیڈ لاک کے باوجود جنگ بندی کی نئی کوششوں اور پس پردہ سفارت کاری نے خطے کی صورتحال کو ایک بار پھر اہم موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جبکہ مذاکراتی عمل میں ممکنہ طور پر پاکستانی ثالثوں کے کردار کی اہمیت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق بظاہر تعطل کے باوجود فریقین کے درمیان غیر رسمی رابطے جاری ہیں،جو مستقبل میں کسی نئے مذاکراتی فریم ورک کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور سفارتی تعطل کے دوران جنگ بندی مذاکرات ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں،جہاں ممکنہ طور پر پاکستانی ثالثوں کو ایران کی جانب سے نئی تجاویز موصول ہو سکتی ہیں۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آ رہی ہے جب فریقین کے درمیان پس پردہ سفارت کاری جاری ہونے کے باوجود باضابطہ مذاکراتی عمل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔مذاکراتی عمل سے باخبر ذرائع کے مطابق عباس عراقچی روسی دورے کے بعد تہران واپس پہنچ رہے ہیں جہاں وہ ایرانی قیادت کے ساتھ موجودہ صورتحال پر مشاورت کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اندرونی سطح پر رابطوں میں مشکلات کے باعث فیصلہ سازی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔اطلاعات کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای سے رابطوں میں درپیش پیچیدگیوں کے باعث اہم مشاورت میں تاخیر ہو رہی ہے جبکہ انہیں تاحال کسی خفیہ مقام پر موجود بتایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں ایران کی پیش کردہ تجاویز کو مسترد کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبہ بندی میں پہلے جنگ بندی، پھر آبنائے ہرمز کی بحالی اور بعد ازاں جوہری پروگرام پر مذاکرات کی تجویز شامل تھی،جسے امریکا قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ایران خود کو سنگین معاشی و سیاسی دباو کا شکار ظاہر کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز کھولنے کی خواہش رکھتا ہے،جسے عالمی توانائی ترسیل کے تناظر میں ایک اہم مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق واشنگٹن کی بنیادی ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ امریکی سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ تہران جوہری صلاحیت کی طرف پیش قدمی نہ کرے۔
ماہرین کے مطابق خطے کی موجودہ صورتحال میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بطور معاشی دباو استعمال کرنے کی حکمت عملی عالمی توانائی سپلائی پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی توانائی ترسیل اسی راستے سے گزرتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بظاہر بڑھتی ہوئی دوری کے باوجود پس پردہ سفارت کاری جاری ہے اور آئندہ دنوں میں کسی نئے مذاکراتی فریم ورک کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔