تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران کی جانب سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جاری امریکا ایران مذاکرات کے حوالے سے واضح اور سخت موقف سامنے آنے کے بعد خطے کی سفارتی فضا مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے، جہاں فریقین کے درمیان بات چیت ایک نازک مگر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دوٹوک بیان نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ ایران مذاکراتی عمل میں شرکت کے باوجود اپنے قومی مفادات اور اصولی موقف پر کسی قسم کے سمجھوتے کے لیے تیار نہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مذاکرات کا دائرہ کار اگرچہ وسیع ہے لیکن اس میں سخت سفارتی حدود بھی موجود ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جاری امریکا ایران مذاکرات کا نتیجہ کچھ بھی ہو،حکومت ہر حال میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی اور قومی مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے گی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”ایکس“ پر جاری اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کا مذاکراتی وفد مکمل قومی مفادات کے دفاع کے لیے بھرپور عزم کے ساتھ بات چیت میں شریک ہے اور کسی بھی مرحلے پر اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔انہوں نے کہا کہ وفد کو اس اہم سفارتی موقع پر مکمل حمایت حاصل ہے اور وہ پاکستان میں جاری مذاکرات میں پوری جرات اور اعتماد کے ساتھ ایران کی نمائندگی کر رہا ہے۔ایرانی صدر کے مطابق عوام کی خدمت اور قومی ذمہ داریوں کا مشن کسی صورت نہیں رکے گا۔مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ اسلام آباد مذاکرات میں ایران کے بنیادی مفادات پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا تاہم ساتھ ہی انہوں نے اپنے مذاکراتی وفد پر مکمل اعتماد اور حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
اسلام آباد مذاکرات پر ایران کا دوٹوک موقف،صدر پزشکیان نے قومی مفادات پر سمجھوتے سے انکار کر دیا
7