تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نیا نے حالیہ جنگ کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی نئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازع نے آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت اور اس پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کو پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں کردیا ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق ایران کی موجودہ فوجی حکمت عملی کا بنیادی مقصد جنگ کا آغاز کرنا نہیں بلکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا موثر اور فیصلہ کن جواب دینے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے باوجود ایرانی مسلح افواج اپنی دفاعی تیاریوں سے غافل نہیں اور نئے ہتھیاروں کی تیاری کے ساتھ فوجی تربیت کا عمل بھی جاری ہے۔بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نیا نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے ساتھ حالیہ جنگ نے ایرانی معاشرے میں قومی یکجہتی کو مزید مضبوط کیا۔ ان کے بقول جنگ کے نتیجے میں ایرانی قوم میں اتحاد اور مشترکہ قومی احساس پہلے سے زیادہ مستحکم ہوا جبکہ حکومت اور مسلح افواج کے درمیان تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہونے کے باوجود حکومت نے مسلح افواج کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے اقدامات کیے،جس سے دفاعی اداروں اور حکومت کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاشی دباو اور ممکنہ پابندیوں کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس نوعیت کے امریکی دباو سے نمٹنے کا تجربہ رکھتا ہے۔میڈیا سے گفتگو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی دھمکیاں ایران کے لیے کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ وہی پرانا امریکی طرزِ عمل ہے جس کا ایران متعدد مرتبہ سامنا کرچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ تہران امریکی دھمکیوں اور پابندیوں سے خوفزدہ نہیں ہوگا اور انہیں کسی بھی دباو کا مقابلہ کرنے کا تجربہ حاصل ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا کی جانب سے اختیار کی گئی مختلف حکمت عملیاں اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں،ایران دباو کے باوجود اپنے موقف پر قائم ہے۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی ملک کو درپیش صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران بیک وقت معاشی،عسکری اور سکیورٹی محاذوں پر دباو کا سامنا کر رہا ہے۔ٹی وی پر نشر کیے گئے خطاب میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کو ایک اور وینزویلا میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ایرانی قوم نے مزاحمت،اتحاد اور قومی یکجہتی کے ذریعے خود کو ایک ایسی قوت کے طور پر منوایا جس نے دنیا کو حیران کردیا۔ایرانی صدر کے مطابق ملک کے مخالفین معاشی مشکلات اور دیگر مسائل کو استعمال کرکے ایرانی معاشرے میں تقسیم اور اختلاف پیدا کرنا چاہتے ہیں تاہم حکومت ان کوششوں کو ناکام بنانے اور معاشرے میں اتحاد برقرار رکھنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گی۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایرانی قوم نے حالیہ حالات میں غیر معمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے،ملک کو ایک ایسی جنگ کا سامنا ہے جس کے اثرات صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں بلکہ معیشت اور داخلی سلامتی بھی اس دباو سے متاثر ہو رہی ہیں۔ایرانی صدر نے اعتراف کیا کہ ملک کی معیشت کو سنگین مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت اس صورتحال پر مطمئن نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے مزید سخت پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود ایران دباو کے سامنے کھڑا ہے اور موجودہ غیر مساوی صورتحال میں عوام کو درپیش مشکلات کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ تہران جنگ بندی کے باوجود اپنی دفاعی تیاریوں،قومی اتحاد اور خطے میں تزویراتی اثرورسوخ کو برقرار رکھنے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کو بھی موجودہ علاقائی صورتحال میں ایک اہم تزویراتی عنصر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔