تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار مذاکراتی عمل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،جس کے تحت تہران نے اپنی تازہ تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا کو ارسال کر دی ہیں۔سفارتی ذرائع کے مطابق اس عمل میں پاکستان نے ایک بار پھر ثالث کا کردار ادا کیا ہے،جس سے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں میں نئی جان پڑ گئی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی کی جانب ایک اہم اشارہ ہو سکتی ہے تاہم صورتحال ابھی بھی غیر یقینی اور نازک مرحلے میں برقرار ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور تعطل کا شکار مذاکراتی عمل میں ایک نئی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے،جس کے تحت ایرانی میڈیا اور سفارتی ذرائع کے مطابق تہران نے اپنی تازہ تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچا دی ہیں۔اس پیش رفت نے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے۔ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اِرنا‘ اور دیگر ذرائع کے مطابق یہ تجاویز جمعرات کی شام پاکستان کے ذریعے منتقل کی گئیں تاہم ان میں شامل نکات یا شرائط کی تفصیلات فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئیں۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان اس پورے عمل میں مرکزی ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں پاکستان ایک کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ان کے مطابق کئی دیگر ممالک بھی اس عمل میں تعاون کے لیے تیار ہیں تاہم باضابطہ ثالثی کی ذمہ داری فی الحال پاکستان کے پاس ہے۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ اگر مذاکرات کے انعقاد کا حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس حوالے سے باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ان کے مطابق ایران کی اولین ترجیح جنگ کا خاتمہ اور خطے میں دیرپا امن کا قیام ہے۔ترجمان نے امریکا کی جانب سے ایرانی جہاز پر قبضے کو ”سمندری قزاقی“ قرار دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ یہ معاملہ بھی پاکستانی ثالث کے ذریعے اٹھایا جا رہا ہے تاکہ زیر حراست ایرانی شہریوں کی رہائی ممکن بنائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور روس کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کے تحت سیاسی،سیکیورٹی اور معاشی شعبوں میں وسیع تعاون جاری ہے۔
اسماعیل بقائی نے امریکی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے دفاعی اقدام نہیں بلکہ کھلی جارحیت تھے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان پہلے دور کے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد تعطل برقرار ہے۔ذرائع کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد پاکستان کی سفارتی کوششوں سے عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی تھی تاہم مذاکراتی عمل دوبارہ رک گیا تھا۔اب ایک بار پھر پاکستان دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہے جبکہ خطے میں صورتحال حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔دوسری جانب عالمی میڈیا میں یہ رپورٹس بھی زیر گردش ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ نئی عسکری کارروائیوں کی تیاریوں کے اشارے مل رہے ہیں،جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔