اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان ایک بار پھر اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں مرکزی پل بن کر سامنے آیا ہے، جہاں تہران نے اپنا نیا مذاکراتی منصوبہ اسلام آباد کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دیا ہے۔ ایرانی سفیر کے مطابق یہ پیشکش خطے میں بڑھتی کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوشش ہے، تاہم اس کے نتائج کا انحصار اب مکمل طور پر امریکہ کے طرزِ عمل اور ردعمل پر ہوگا۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے اپنے نئے مذاکراتی منصوبے کو پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچا دیا ہے اور آئندہ پیشرفت کا انحصار مکمل طور پر امریکی رویے پر ہوگا۔ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے موقف اور مطالبات میں شفاف ہے اور اگر امریکہ واقعی مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو اسے اپنی پالیسیوں اور رویے میں نمایاں تبدیلی لانا ہوگی۔ایرانی سفیر کے مطابق ایران اپنے قومی مفادات اور دفاعی معاملات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے جو نیا سفارتی منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے،اسے باضابطہ طور پر پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچایا جا چکا ہے۔انہوں نے اس عمل میں پاکستان کے کردار کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نہ صرف ایک فعال بلکہ مرکزی ثالث کے طور پر کام کر رہا ہے اور اس کی سفارتی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ان کے مطابق ثالثی کے حوالے سے پاکستان کے کردار میں کسی تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا
۔رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ عالمی برادری ایران کے موقف کو واضح،منطقی اور اصولی طور پر دیکھ رہی ہے جبکہ امریکہ کا رویہ غیر مستقل اور غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران بدستور سفارتکاری کے راستے پر قائم ہے تاہم کسی بھی عملی پیشرفت کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ جارحانہ طرز عمل ترک کرے اور ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کرے۔پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تجارتی روابط میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان خطے میں تجارتی راستوں کے تنوع کا خواہاں ہے اور ایران کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔میرجاوہ، تفتان اور گبد ریمدان کی سرحدی گزرگاہوں کو انہوں نے دوطرفہ تجارت کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔
دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے چودہ نکاتی تجاویز موصول ہو چکی ہیں جن پر امریکی انتظامیہ تفصیلی غور کرے گی تاہم انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ادھر اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فوجی قیادت اور امریکی سینٹکام کے درمیان حالیہ دنوں میں رابطوں میں تیزی آئی ہے،جس میں ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔اس پیش رفت نے خطے میں کشیدگی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے جبکہ سفارتی اور عسکری دونوں محاذوں پر سرگرمیاں تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔