تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران نے امریکا کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے امن منصوبے پر اپنا باضابطہ ردعمل پاکستان کے ذریعے بھجوا دیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران نے واضح کیا کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں وہ کسی بھی عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کر سکتا کیونکہ ایسے اقدامات وقتی نوعیت کے ہوتے ہیں اور دورانِ معاہدہ فریق دوبارہ جنگ کے لیے خود کو منظم کر لیتا ہے،جس سے کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ایران کے جواب میں دس نکات شامل ہیں، جن میں خطے کے جاری تمام تنازعات کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ کے لیے باقاعدہ طریقہ کار، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے مطالبات شامل ہیں۔جواب میں کہا گیا کہ ایران صرف اسی صورت کسی معاہدے پر آمادہ ہوگا جب جنگ کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے اور مستقبل میں دوبارہ جنگ کا راستہ مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے تمام تنازعات کو ایک جامع امن منصوبے کا حصہ بنایا جائے تاکہ دیرپا استحکام حاصل کیا جا سکے۔ ایرانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے واضح پروٹوکول چاہتا ہے، کیونکہ یہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ترجمان نے مزید عندیہ دیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی کے معاملے میں بیرونی ضمانتوں پر انحصار کرنے کے بجائے خود مضبوط اقدامات کو ترجیح دے گا، اسی لیے عارضی جنگ بندی کو غیر موثر قرار دیا جا رہا ہے۔امریکا کی جانب سے ایران کے اس ردعمل پر باضابطہ موقف ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
ایران نے امریکا کے امن منصوبے کو مسترد کر دیا،عارضی جنگ بندی قبول نہیں،مکمل حل اور مستقل امن کا مطالبہ
9