نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران انسانی حقوق کے سنگین مسائل سامنے آئے ہیں، جن میں مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باعث کم از کم چھ افراد ہلاک اور متعدد گرفتار ہوئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان مظاہروں کے تناظر میں ایران کو سخت انتباہ دیا ہے کہ اگر پرامن مظاہرین پر تشدد کیا گیا تو امریکہ ان کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کرے گا۔ ایرانی حکومت کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی مداخلت خطے میں افراتفری پیدا کرنے کے مترادف ہوگی۔ اس سیاسی و سفارتی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں حالات مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ،سوشل ٹروتھ پر ایران میں جاری مظاہروں کے تناظر میں ایک سخت اور واضح انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی حکومت نے پرامن مظاہرین پر تشدد کیا یا انہیں قتل کیا تو امریکہ ان مظاہرین کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکی حکومت مظاہرین کو بچانے کے لیے ہر طرح کی تیاری کے ساتھ موجود ہے۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ مظاہرین کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر بروقت مداخلت کی جائے گی۔ انہوں نے ایرانی حکومت کو یہ واضح پیغام دیا کہ پرامن مظاہرین کے خلاف کسی بھی قسم کے مظالم کو امریکہ برداشت نہیں کرے گا۔اس بیان کے فوراً بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے اندر جاری احتجاجی مظاہروں میں امریکی مداخلت خطے میں افراتفری پھیلانے کے مترادف ہوگی۔ لاریجانی نے زور دیا کہ صدر ٹرمپ کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ غیر ملکی مداخلت کے نتیجے میں نہ صرف ایران میں بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔یاد رہے کہ ایران میں گزشتہ کئی روز سے مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور معاشی مشکلات کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں۔ ان مظاہروں کے دوران ایرانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں کم از کم 6 مظاہرین ہلاک اور 30 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مظاہرین نے پرامن احتجاج کے دوران حکومت سے معاشی اور سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے ان مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔عالمی سطح پر اس معاملے کو نہ صرف انسانی حقوق کے نقطہ نظر سے دیکھا جا رہا ہے بلکہ یہ خطے میں امریکی اور ایرانی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرنے والا واقعہ ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ عملی طور پر مظاہرین کی حمایت کرتا ہے تو اس کے خطے میں سیکورٹی اور سفارتی تعلقات پر طویل المدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
ایران میں احتجاجی مظاہرے اور انسانی حقوق بحران،امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی پر ایرانی حکومت بھی میدان میں آ گئی،خطے میں کشیدگی بڑھنے کا امکان
13