تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے ملک بھر میں غیر معمولی اور وسیع انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ تہران،قم اور مشہد میں خصوصی تقریبات کے پیش نظر سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔حکومت کی جانب سے تین روزہ قومی سوگ کے اعلان کے بعد پورا ملک سوگوار فضا میں ڈوب گیا ہے اور بڑی تعداد میں عوام کی شرکت متوقع ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایران میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں حکومت نے تین روزہ سرکاری اور عوامی تقریبات کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے،جنہیں ملکی تاریخ کے بڑے ریاستی اجتماعات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق نمازِ جنازہ اور الوداعی تقریبات ذوالحج کے آخری ایام یا محرم الحرام کے آغاز میں منعقد کیے جانے کا امکان ہے تاہم حتمی شیڈول کا اعلان جلد کیا جائے گا۔اس موقع پر تہران،قم اور مشہد کو مرکزی تقریبات کے لیے منتخب کیا گیا ہے،جہاں وسیع انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔
تہران میونسپل کارپوریشن کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ کے مطابق دارالحکومت میں الوداعی تقریبات کم از کم 24 گھنٹے جاری رہیں گی، جبکہ ملک بھر سے لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔حکام کے مطابق صرف تہران میں ہی ایک سے دو کروڑ افراد کی آمد کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے،جس کے باعث سیکیورٹی اور شہری انتظامات کو غیر معمولی سطح پر بڑھا دیا گیا ہے۔ایرانی حکام نے بتایا کہ مرحوم رہنما کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین مشہد میں واقع امام رضا کے روضے کے احاطے میں کی جائے گی،جہاں پہلے ہی خصوصی انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔غیر ملکی زائرین اور وفود کی آمد کے پیش نظر بھی سیکیورٹی اور لاجسٹک اقدامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔حکام کے مطابق یہ تقریبات نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں ایک اہم مذہبی و سیاسی موقع کی حیثیت رکھتی ہیں،جس کے دوران ملک بھر میں سوگ اور سرکاری تعطیلات کا ماحول رہے گا۔