Home » سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع ختم کرانے کے لیے ایران میدان میں آگیا،مسعود پزشکیان کی مذاکرات اور مدد کی پیشکش

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع ختم کرانے کے لیے ایران میدان میں آگیا،مسعود پزشکیان کی مذاکرات اور مدد کی پیشکش

by ahmedportugal
12 views
A+A-
Reset

تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے اس تنازع کے خاتمے کے لیے ایران کی جانب سے مدد کی پیشکش کردی ہے۔
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مسعود پزشکیان نے یمن کی صورتِ حال،خطے کی سلامتی،امریکا کے ساتھ مذاکرات،آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران کی داخلی صورتِ حال سمیت مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی۔سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان اختلافات کے حوالے سے ایرانی صدر نے کہا کہ دونوں فریقوں کو اپنے مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہییں،”ایک بھائی کو دوسرے بھائی سے نہیں لڑنا چاہیے“ اور ایران اس تنازع کو ختم کرانے کے لیے مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں اور خطے میں تنازعات کا حل مذاکرات اور باہمی مفاہمت کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔انہوں نے حوثیوں کے اقدامات کو ایران سے منسلک کرنے کے تاثر کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کے اقدامات ایران سے متعلق نہیں ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ تہران ہر اس شخص کے ساتھ کھڑا ہے جس کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہو تاہم انہوں نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات اور سیکیورٹی کے مسائل باہمی تعاون کے ذریعے حل کریں۔علاقائی سلامتی کے حوالے سے مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں سے امن و سلامتی قائم کرسکتے ہیں اور خطے کو کسی ایک ملک کے ”علاقائی پولیس مین“ کی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اسلامی دنیا کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور خطے کے ممالک کو تصادم کے بجائے تعاون کی طرف بڑھنا چاہیے۔

امریکا کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کا واشنگٹن پر اعتماد ختم ہوچکا ہے اور تہران کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ امریکا کے ساتھ کس بنیاد پر کسی مفاہمت تک پہنچا جاسکتا ہے،ایران اور امریکا کے درمیان سابقہ مذاکرات کے باوجود ایران پر حملے کیے گئے اور پابندیاں عائد کی گئیں،جس کے باعث تہران کو واشنگٹن کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ تحفظات ہیں۔مسعود پزشکیان نے بتایا کہ قطر اور پاکستان ایران کے پیغامات امریکا تک پہنچانے میں کردار ادا کررہے ہیں،مذاکرات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو بنیاد بنایا جارہا ہے تاہم اس کی مدت گزشتہ ماہ ختم ہوچکی ہے،اس لیے امریکا کو مذکورہ معاہدے کے بارے میں اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔

ایرانی صدر نے یہ بھی بتایا کہ ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کو سات روزہ منصوبہ پیش کیا ہے،منصوبے کے ابتدائی اقدامات چار سے پانچ روز میں مکمل کیے جائیں گے،چھٹے روز آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھول دیا جائے گا جبکہ ساتویں روز ایران کے جوہری پروگرام سمیت باہمی اتفاق کے دیگر معاملات پر حتمی معاہدے کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات شروع ہوں گے۔اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس منصوبے کے بعض نکات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس کے تحت امریکا سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکا بندی ختم کرنے،ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں اٹھانے،تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے اور خطے میں جنگ بندی کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے،مجوزہ جنگ بندی میں لبنان اور یمن بھی شامل ہوں گے تاہم اس منصوبے کے حوالے سے امریکی موقف مختلف سامنے آیا ہے۔ایرانی ذرائع کے مطابق تہران نے قطر کے ذریعے یہ سات روزہ منصوبہ امریکا تک پہنچایا جبکہ امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تجویز مسترد کردی ہے۔

آبِنائے ہرمز کی بندش کے معاملے پر مسعود پزشکیان نے ایرانی موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے آبنائے کو بند نہیں کیا بلکہ امریکا نے ایران کے لیے راستے بند کیے، اس لیے آبنائے کی بندش کو تہران کی جانب سے ایک قدرتی ردعمل سمجھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کے ذریعے جنگ ختم ہوجاتی ہے تو ایران آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھول دے گا۔امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے ایرانی صدر نے امریکا کو موجودہ تنازع کا جارح قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے گزشتہ 200 برس کے دوران کسی ملک پر حملہ نہیں کیا جبکہ امریکا اور اسرائیل نے یہ سمجھتے ہوئے خطے کے دیگر ممالک کو جنگ میں شامل کیا کہ ایرانی نظام چند ہی دنوں میں ختم ہوجائے گا۔

مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ان حملوں کا مقابلہ کیا اور اپنی مزاحمت جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران جنگ مسلط کرنے کے بجائے اپنے دفاع اور خطے میں امن کے قیام کو ترجیح دیتا ہے۔ایران پر عائد پابندیوں کے حوالے سے ایرانی صدر نے ان کا تعلق غزہ کی صورتِ حال سے جوڑتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ایرانی عوام کو ادویات اور خام مال سے محروم کررہے ہیں،وہی غزہ میں خوراک اور پانی کی رسد روک رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے ذریعے ایرانی عوام کو دباو میں لاکر پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کی حکمت عملی کے نتائج توقع کے مطابق نہیں ہوں گے اور ایران اپنی پالیسیوں پر قائم رہے گا۔

ایران کی داخلی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے دشمن ملک کے حکام کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاہم ان کے بقول ملک میں اس وقت غیر معمولی اتحاد اور یک جہتی موجود ہے۔ایرانی صدر نے بتایا کہ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے دو مرتبہ ملاقات کی ہے،جن میں سے ایک ملاقات تقریباً سات گھنٹے جاری رہی،ملاقات میں ملکی اور اہم قومی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل ایران کو خود انحصاری کی جانب بڑھنے سے روکنا چاہتے ہیں تاہم تہران اپنی عوام پر سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ایرانی صدر کے حالیہ بیان میں ایک جانب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب امریکا کے ساتھ اعتماد کے بحران اور جاری تنازع کے حوالے سے ایران کے سخت موقف کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ تہران خطے کے ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ مستقبل کی مفاہمت کو متعدد شرائط اور باہمی ضمانتوں سے مشروط سمجھتا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز