تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران میں عسکری و سیاسی سطح پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے مسلح افواج کو موجودہ حالات کے تناظر میں اپنی کارروائیوں میں تسلسل اور تیزی لانے کی واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔اس فیصلے کو خطے کی مجموعی صورتحال اور سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔عسکری قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطح ملاقات میں دفاعی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی بھی بیرونی خطرے یا جارحیت کی صورت میں فوری اور موثر ردعمل یقینی بنایا جائے گا۔
ایگزونیوز کے مطابق ایران میں اعلیٰ عسکری و سیاسی سطح پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سپریم لیڈر کی جانب سے مسلح افواج کو موجودہ صورتحال کے تناظر میں اپنی کارروائیوں میں تسلسل برقرار رکھنے اور کسی بھی بیرونی خطرے کے خلاف سخت اور فوری ردعمل دینے کی واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔اس حوالے سے ایرانی مسلح افواج کی متحدہ کمانڈ کے سربراہ نے سپریم لیڈر کو موجودہ دفاعی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی،جس میں کہا گیا کہ ملک کی افواج مکمل طور پر ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں اور ان کا مورال بلند ہے۔
ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کسی بھی ممکنہ جارحیت یا سٹریٹجک غلطی کی صورت میں ایران کی جانب سے بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا جبکہ دفاعی حکمت عملی اور ہتھیاروں کی تیاری بھی مکمل سطح پر موجود ہے۔ایرانی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی خودمختاری،قومی مفادات اور نظریاتی بنیادوں کے تحفظ کے لیے مسلح افواج ہر لمحہ تیار ہیں اور کسی بھی بیرونی دباو کو قبول نہیں کیا جائے گا۔خطے کی موجودہ صورتحال اور حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ان ہدایات کو ایک اہم عسکری اور سیاسی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے،جس کے اثرات مستقبل میں علاقائی حالات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔