تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے جہاں ایران نے اسرائیل کے خلاف بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ’آپریشن نصر‘ لانچ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔’یا حیدر کرار‘ کے خفیہ کوڈ کے تحت شروع کیے گئے اس آپریشن کو ایرانی حکام نے منظم اور فیصلہ کن جوابی اقدام قرار دیا ہے،جس کے بعد خطے میں ایک ممکنہ بڑی جنگ کے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق اس پیش رفت نے نہ صرف علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کی توجہ بھی ایک بار پھر اس حساس خطے پر مرکوز ہو گئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے اسرائیل کے خلاف بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے اسے ’آپریشن نصر‘ کا نام دے دیا ہے،جس کے تحت مختلف جنگی یونٹس کو متحرک کر دیا گیا ہے اور خطے میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ترجمان پاسداران انقلاب کے مطابق یہ کارروائی ’یا حیدر کرار‘ کے کوڈ نام کے تحت شروع کی گئی،جس میں تمام عسکری یونٹس مکمل تیاری کے ساتھ شریک ہیں اور ہر محاذ پر بھرپور جوابی کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے دوران اسرائیل کے اہم سٹریٹجک فضائی اڈوں،نیواتیم اور تل نوف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے واضح کیا کہ یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حالیہ میزائل حملوں کے ردعمل میں کی گئی،جسے ایران نے اپنی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔ترجمان نے سخت الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے لبنان یا دیگر محاذوں پر اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو ایران اس سے بھی زیادہ شدید ردعمل دے گا۔بیان میں کہا گیا کہ خطے میں موجود تمام امریکی اور اسرائیلی اہداف ایران کی رسائی میں ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ایران نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ جنگ بندی کے حوالے سے طے شدہ شرائط پر امریکا اور اسرائیل نے عملدرآمد نہیں کیا،جس کے باعث صورتحال مزید بگڑی۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں کے بعد کرمان شاہ میں دفاعی نظام کو فوری طور پر فعال کر دیا گیا،جہاں فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ممکنہ حملوں کو ناکام بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔اسی دوران تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں،جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ایرانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں کہا کہ فلسطین اور لبنان میں حالیہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسرائیل امن کی زبان نہیں سمجھتا۔ان کا کہنا تھا کہ مزاحمتی محاذ اب اسی زبان میں جواب دے گا جو مخالف قوتیں استعمال کر رہی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے بھی واضح کیا کہ ایران پہلے ہی دشمن کو خبردار کر چکا تھا کہ لبنان پر حملے ناقابل برداشت ہوں گے۔ان کے مطابق حالیہ کارروائی اسی تناظر میں کی گئی اور حملہ آور قوتوں کو بھرپور جواب دیا گیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے ’آپریشن نصر‘ کا اعلان نہ صرف ایک عسکری اقدام ہے بلکہ ایک واضح سٹریٹجک پیغام بھی،جس سے خطے میں طاقت کے توازن،سلامتی کی صورتحال اور عالمی سطح پر سفارتی حرکیات پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔