واشنگٹن/تہران(ایگزو نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکی کے بعد ایران نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ اور سینئر رہنما علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی عوام کے اصل قاتل خود امریکہ اور اسرائیل کی قیادت ہیں،ایرانی عوام کے قاتلوں کے نام ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو ہیں اور وہ ممالک جو انسانی حقوق کے نعرے بلند کرتے ہیں،خود سب سے بڑی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ اور سینئر رہنما علی لاریجانی نےکہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے برسوں سے ایران پر پابندیاں،دباو اور عدم استحکام مسلط کر کے عام شہریوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے،ایرانی عوام کے قاتلوں کے نام ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو ہیں اور وہ ممالک جو انسانی حقوق کے نعرے بلند کرتے ہیں،خود سب سے بڑی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔
دوسری جانب امریکہ نے ایران میں اپنی شہریوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام امریکی شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ امریکی ورچوئل سفارت خانے نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ ممکن ہو تو زمینی راستے سے آرمینیا یا ترکی کے راستے ایران چھوڑیں اور ایسے انتظامات کریں جن میں امریکی حکومت کی مدد پر انحصار نہ ہو۔جو افراد ایران نہیں چھوڑنا چاہتے،انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محفوظ جگہ پر رہیں،احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہیں اور خوراک، پانی،ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کا ذخیرہ کر لیں۔قبل ازیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں سینئر معاونین نے ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی سے پہلے سفارت کاری کے مواقع استعمال کیے جائیں۔امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاوس ایران کی جانب سے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کی پیشکش پر غور کر رہا تھا جبکہ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دینے پر بھی غور کر رہے تھے۔اس کے علاوہ امریکی صدر نے ایران سے تجارت کرنے والے کسی بھی ملک پر فوری طور پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا،جس سے ایران کے بین الاقوامی تجارتی تعلقات پر شدید اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔یہ پیش رفت ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور خطے میں صورت حال کو غیر مستحکم کر سکتی ہے۔