تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل ایک نئے تعطل کا شکار ہو گیا ہے،جہاں تہران نے مذاکرات کے اگلے دور کی منظوری تاحال نہیں دی۔حکام کے مطابق سخت امریکی مطالبات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی،بالخصوص آبنائے ہرمز کی بگڑتی ہوئی صورتحال،مذاکراتی پیش رفت کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں،جس کے باعث آئندہ مرحلے کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ جاری سفارتی عمل کے تحت مذاکرات کے نئے دور کی منظوری تاحال نہیں دی،جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان جاری بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی ہے۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق موجودہ حالات میں مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے مناسب ماحول موجود نہیں اور سخت امریکی مطالبات کو اس پیش رفت میں بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق متعلقہ حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اگلے مذاکراتی مرحلے پر تاحال کوئی اتفاق نہیں ہو سکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور امریکا کی جانب سے سخت رویے کے باعث مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے بحری ناکا بندی کے اعلان اور سخت مطالبات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے،جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اگرچہ پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے لیکن کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
ایرانی حکام نے موقف اختیار کیا ہے کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ فریقین غیر ضروری اور سخت مطالبات سے گریز کریں،بصورت دیگر ایران ایسے مذاکرات میں شامل نہیں ہو گا جو طویل اور غیر نتیجہ خیز ثابت ہوں۔ذرائع کے مطابق ایران نے اپنا موقف ایک ثالثی ذریعے کے طور پر پاکستان کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچایا ہے تاہم آئندہ صورتحال دونوں ممالک کے فیصلوں پر منحصر ہوگی۔ایرانی نائب وزیر خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ابھی تک کسی مذاکراتی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا اور فی الحال توجہ مذاکرات کے فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر ہے۔ان کے مطابق ایران ایسے کسی عمل میں شامل نہیں ہو گا جس کے ناکام ہونے کا خدشہ پہلے سے موجود ہو اور ہر معاہدہ بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہ کر ہی ممکن ہوگا۔
اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے امریکا کے سابق بیانات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ دباو اور غلط معلومات کے ذریعے نہ ماضی میں کوئی نتیجہ نکلا ہے اور نہ مستقبل میں نکل سکتا ہے۔دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جہاں بحری نقل و حرکت میں شدید رکاوٹیں رپورٹ کی گئی ہیں اور متعدد جہاز راستہ بدلنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق تجارتی جہازوں پر پیش آنے والے واقعات نے بحری سلامتی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی نہیں کرتا۔