تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عملدرآمد معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات میں بڑھتی کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ایگزو نیوز کے مطابق اپنے بیان میں ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق یہ فیصلہ امریکی حملوں اور مسلسل معاہدہ خلاف ورزیوں کے ردعمل میں کیا گیا،جنہوں نے مذاکراتی عمل کے دوران اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکا نے نہ صرف طے شدہ شرائط کی پاسداری نہیں کی بلکہ مذاکرات کے دوران بھی وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے جارحانہ اقدامات جاری رکھے،ان حالات میں مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے مذاکراتی عمل میں سنجیدگی کے ساتھ حصہ لیا تاہم امریکی اقدامات نے باہمی اعتماد کی بنیاد کو کمزور کر دیا،جس کے بعد معاہدے کی معطلی ناگزیر ہو گئی۔ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کی اولین ترجیح قومی سلامتی اور دفاع کو یقینی بنانا ہے۔
ادھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ متوقع ہے،جس کے خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق اس پیش رفت سے مستقبل قریب میں مذاکرات کی بحالی کے امکانات بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔