Home » آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ایران کا امریکا کو سات روزہ منصوبہ،فیصلہ واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے،عباس عراقچی

آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ایران کا امریکا کو سات روزہ منصوبہ،فیصلہ واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے،عباس عراقچی

by ahmedportugal
12 views
A+A-
Reset

نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے امریکا کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش کردیا ہے،جس کے تحت واشنگٹن کی جانب سے ضروری شرائط پوری کیے جانے کی صورت میں ایک ہفتے کے اندر آبنائے میں معمول کی بحری آمدورفت بحال کی جاسکتی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے یہ منصوبہ امریکا تک ثالثوں کے ذریعے پہنچایا ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے ضروری اقدامات واشنگٹن کی جانب سے کیے جانے ہیں،اگر مطلوبہ شرائط پوری ہوجائیں تو آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولا جاسکتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کے حوالے سے فیصلہ اب امریکا کے ہاتھ میں ہے،ایران کی جانب سے پیش کردہ تجاویز نئی نہیں بلکہ ان اقدامات سے متعلق ہیں جن پر دونوں ممالک کے درمیان جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت میں پہلے ہی اتفاق کیا جاچکا تھا۔عباس عراقچی کے مطابق امریکا کو جن اقدامات کی ضرورت ہے وہ پہلے سے طے شدہ نکات کا حصہ ہیں اور ایران کی جانب سے کوئی نئی یا اضافی شرط عائد نہیں کی گئی،جون میں ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کو بنیاد بنا کر موجودہ بحران کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کی راہ نکالی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی جانب سے ضروری اقدامات کیے جانے کے اگلے روز سات روزہ مدت کا آغاز ہوسکتا ہے اور اس مدت کے اختتام پر آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت بحال کی جا سکتی ہے۔

اس طرح ایران کے پیش کردہ منصوبے میں جنگ یا کشیدگی کے خاتمے،آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری معاملے پر مذاکرات کی بحالی کو ایک ہی سفارتی عمل سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران کا یہ منصوبہ جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت سے جڑا ہوا ہے،جس میں آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی اور ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کے بنیادی خدوخال شامل تھے۔اس مفاہمت کے بعض نکات کا متن بھی جون میں سامنے آیا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اس موقع پر یہ موقف بھی اختیار کیا کہ واشنگٹن اگر ان شرائط کو قبول کرتا ہے تو بحران کے خاتمے کے لیے پیش رفت تیزی سے ہوسکتی ہے تاہم امریکا کی جانب سے اس منصوبے پر حتمی رضامندی کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ایک امریکی عہدیدار نے ثالثوں کے ذریعے ایران کے ساتھ جاری رابطوں کو مثبت قرار دیا، تاہم منصوبے کی مکمل تفصیلات پر تبصرہ نہیں کیا۔آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیج سے عالمی منڈیوں تک توانائی کی ترسیل کے لیے اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔اسی وجہ سے آبنائے میں بحری آمدورفت میں رکاوٹ یا اس کی بحالی کی کوئی بھی خبر عالمی توانائی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق آبنائے میں معمول کے مقابلے میں بحری آمدورفت نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ایران کی جانب سے سات روزہ منصوبہ پیش کیے جانے کی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطے ثالثوں کے ذریعے جاری ہیں۔ قطر دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کر رہا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بھی فریقین کے لیے سفارتی رابطوں کا اہم موقع بن گیا ہے۔ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے میں آبنائے ہرمز کھولنے کے ساتھ جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔تہران کا موقف ہے کہ اگر امریکا ضروری اقدامات کرے تو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی عمل دوبارہ شروع ہوسکتا ہے جبکہ واشنگٹن کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے مختلف موقف اور ترجیحات سامنے آتی رہی ہیں۔یوں عباس عراقچی کے تازہ بیان کے بعد آبنائے ہرمز کی بحالی کا معاملہ ایک بار پھر ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی مذاکرات کے مرکز میں آگیا ہے۔ایران نے سات روز کی مدت مقرر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ضروری شرائط پوری ہونے کی صورت میں بحری آمدورفت بحال کی جاسکتی ہے جبکہ اب اس پیشکش پر واشنگٹن کے ردعمل کو اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جائے گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز