اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں،جہاں ان کا پرتپاک استقبال نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر،وزیر داخلہ سید محسن نقوی سمیت اعلیٰ حکام نے نور خان ایئر بیس پر کیا۔ایرانی وفد میں وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی شامل ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق دفتر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم دورے کے دوران خطے کی مجموعی صورتحال،جاری سفارتی کوششوں اور ایران-امریکا کشیدگی میں کمی کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ عباس عراقچی کی وزیراعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ذرائع کے مطابق اس دورے کا بنیادی مقصد خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانا اور پائیدار امن کے لیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ اسلام آباد کے ساتھ ساتھ مسقط اور ماسکو کے دورے بھی کر رہے ہیں تاکہ علاقائی شراکت داروں سے مشاورت کی جا سکے۔سفارتی ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستان کو خطے میں اپنے قریبی اور اہم شراکت داروں میں شامل کرتے ہوئے موجودہ صورتحال پر مشاورت کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ٹیلیفونک رابطے بھی کیے تھے،جن میں خطے کی تازہ صورتحال اور امریکا-ایران کشیدگی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ادھر امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھی اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات میں شرکت کے لیے اعلیٰ سطح وفد بھیجنے کا اعلان سامنے آیا ہے۔وائٹ ہاوس ترجمان کے مطابق اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح پاکستان روانہ ہوں گے جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ان کی بھی روانگی ممکن ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق امریکی لاجسٹک اور سکیورٹی ٹیم پہلے ہی اسلام آباد میں موجود ہے،جس سے یہ امکان مزید مضبوط ہو گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جلد شروع ہو سکتا ہے۔پاکستان کو اس پورے عمل میں ایک اہم ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اس سے قبل ایران اور امریکا کے درمیان محدود جنگ بندی کے بعد پہلا مذاکراتی دور بھی اسلام آباد میں ہوا تھا،جو کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا تھا۔اب پاکستان کی کوشش ہے کہ دونوں فریقین کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لا کر کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار کی جائے۔
ایرانی قیادت نے امریکا پر عدم اعتماد کو مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ سفارت کاری اور مذاکرات کو ہمیشہ ترجیح دیتا ہے۔ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستان کا ثالثی کردار خطے میں استحکام کے لیے نہایت اہم ہو گیا ہے، تاہم مذاکرات کی کامیابی کا انحصار فریقین کے سیاسی ارادوں اور باہمی اعتماد کی بحالی پر ہوگا۔