تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ خطے میں جنگ کے خاتمے کا مطلب اس وقت تک مکمل نہیں سمجھا جا سکتا جب تک لبنان میں جاری صورتحال بھی اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچتی۔ ان کے مطابق لبنان میں جنگ کا خاتمہ دراصل وسیع تر علاقائی امن عمل کا لازمی اور ناقابلِ علیحدگی حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق عباس عراقچی نے منگل کے روز غیر ملکی سفارت کاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک اسرائیلی افواج ان لبنانی علاقوں سے مکمل انخلا نہیں کرتیں جن پر جنگ کے دوران قبضہ کیا گیا، اس وقت تک جنگ کو مکمل طور پر ختم قرار نہیں دیا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ لبنان پر اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی نئی فوجی کارروائی کو ایران مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی تصور کرے گا، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ جنیوا میں جمعہ کے روز دونوں مذاکراتی ٹیموں کے سربراہان ایک اہم ملاقات کریں گے، جس کے بعد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا مرحلہ شروع ہوگا۔دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی امن معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، تاہم اس معاہدے کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئیں۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ مرحلہ وار جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل امن کی طرف پیش رفت کا حصہ ہے۔رپورٹس کے مطابق ابتدائی معاہدے کے تحت نازک جنگ بندی میں 60 روز کی توسیع کی جائے گی جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ اگلے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر حساس معاملات پر تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔اگرچہ دونوں فریقین کی جانب سے ابتدائی پیش رفت کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم مکمل معاہدے کے نکات ابھی تک عوامی سطح پر جاری نہیں کیے گئے، جس کے باعث صورتحال اب بھی غیر واضح اور مذاکراتی مرحلے میں ہے۔
عباس عراقچی کا واضح اعلان،اسرائیلی انخلا تک لبنان جنگ ختم نہیں ہو گی
8